معجم صغير للطبراني
كتاب الادب— ادب کا بیان
باب: حوصلہ و بردباری اور سکون و اطمینان پسندیدہ اوصاف ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 708
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ الْبَصْرِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُرْكِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ : " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ : الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قُرَّةَ ، إِلا بِشْرٌترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشج عبدالقیس کو فرمایا: ”تجھ میں دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے، ایک حوصلہ اور دوسری آہستگی اور سکون۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2011 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سوچ سمجھ کر کام کرنے کا ذکر اور جلد بازی نہ کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن عائذ اشج عبدالقیس سے فرمایا: ” تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور غور و فکر کی عادت ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2011]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن عائذ اشج عبدالقیس سے فرمایا: ” تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور غور و فکر کی عادت ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2011]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ انسان کو کوئی بھی کام سوچ سمجھ کرنا چاہیے، جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہیے اور آدمی کو بردباری اور حلیم وصابر ہونا چاہیے۔
وضاحت:
1؎:
معلوم ہواکہ انسان کو کوئی بھی کام سوچ سمجھ کرنا چاہیے، جلدبازی سے کام نہیں لینا چاہیے اور آدمی کو بردباری اور حلیم وصابر ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2011 سے ماخوذ ہے۔