حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ لِلآخَرِ : " يَا شَاهَانْشَاهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُ مَلِكُ الْمُلُوكِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَاصِمٍ ، إِلا عَبْدُ الْمَلِكِ ، تَفَرَّدَ بِهِ آدَمُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ دوسرے کو کہہ رہا تھا: اے بادشاہوں کے بادشاہ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ملک الملوک یعنی بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 699
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6205، 6206، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2143، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5835، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7818، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4961، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2837، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 19374، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7447، 8293، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1161، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4365، والطبراني فى «الصغير» برقم: 597، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 1076»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6205 | صحيح مسلم: 2143 | سنن ترمذي: 2837 | سنن ابي داود: 4961 | مسند الحميدي: 1161

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6205 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6205. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے برا نام اس شخص کا ہوگا جس نے اپنا نام ملک الاملاک (شہنشاہ مہاراج) رکھا۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6205]
حدیث حاشیہ: لفظ اخنیٰ کے معنی بہت ہی بد ترین، بہت ہی گندہ نام یہ ہے کہ لوگ کسی کا نام بادشاہوں کا بادشاہ رکھیں۔
ایسے نام والے قیامت کے دن بد ترین لوگ ہوں گے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6205 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2143 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کے نزدیک سب سے برا نام اس آدمی کا ہے جو اپنا نام شاہ شاہاں رکھتا ہے‘‘ ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ بیان کیا ہے ’’اللہ عزوجل کے سوا کوئی مالک نہیں ہے۔‘‘ سفیان نے کہا، جیسے شاہان شاہ ہے، امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، میں نے ابو عمرو سے اخنع کا معنی دریافت کیا تو اس نے کہا، سب سے زیادہ پست و ذلیل۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5610]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
اخنع يعني اذل: ذلیل ترین، بقول خلیل۔
افجر: بدترین، قبیح۔
فوائد ومسائل: امام سفیان رحمہ اللہ نے مَلَكَ الملوك کا ترجمہ شاہان شاہ کیا ہے، جو فارسی زبان ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ صرف ملك الملوك ہی ذلیل ترین اور سب سے برا نام نہیں ہے، بلکہ اس مفہوم و معنی کا حامل کسی زبان کا نام یہی حکم رکھتا ہے، جیسے خالق الخلق، احکم الحاکمین، سلطان السلاطین، امیر الامراء اور بقول بعض ہر وہ نام جو اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، اس کا یہی حکم ہے، جیسے جبار، قہار، رحمٰن، قدوس وغیرہ، اس لیے شرعا یہ نام رکھنا جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5610 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4961 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´برے نام کو بدل دینے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہو گا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں۔‏‏‏‏" ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے «أخنع اسم» کے بجائے «أخنى اسم» کہا ہے، (جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4961]
فوائد ومسائل:
علمائے کرام نے مندرجہ بالا ترکیب سے قاضی القضاۃ کہنے کہلانے کو بھی ناجائز کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4961 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1161 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1161- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ ترین شخص وہ ہے، جس کا نام "بادشاہوں کا بادشاہ" ہو۔ سفیان کہتے ہیں: اس سے مراد "شہنشاہ" ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1161]
فائدہ:
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت کا ذکر ہے اور وہ «ملك الا ملاك» ہے، جسے اردو میں شہنشاہ کہتے ہیں، یعنی دنیا میں امیر سے امیر آدمی کو بھی شہنشاہ کہنا گناہ ہے، اور شہنشاہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی صفات میں تاویل، تشبیہ، تکییف اور تعطیل کرنا درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1159 سے ماخوذ ہے۔