معجم صغير للطبراني
كتاب الادب— ادب کا بیان
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ القاب کا بیان
حدیث نمبر: 695
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَهْلٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ أَنْ يَسْمَعَ : يَا نَجِيحُ ، يَا رَاشِدُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَمَّادٍ ، إِلا الْعَقَدِيُّ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ رَافِعٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کو جاتے تو «يا نجيح، يا راشد» سننا پسند فرماتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1616 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ضرورت سے نکلیں تو کوئی یا راشد یا نجیح کہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1616]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ضرورت سے نکلیں تو کوئی یا راشد یا نجیح کہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1616]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
راشد کا مطلب ہے صحیح راستہ اپنانے والا، اور نجیح کا مفہوم ہے جس کی ضرورت پوری کردی گئی۔
وضاحت:
1؎:
راشد کا مطلب ہے صحیح راستہ اپنانے والا، اور نجیح کا مفہوم ہے جس کی ضرورت پوری کردی گئی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1616 سے ماخوذ ہے۔