حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ سَهْلٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَسْتَحْيِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، فَقَالَ : مَنِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ فَلْيَحْفَظِ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى ، وَالْبَطْنَ وَمَا حَوَى ، وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبَلاءَ ، وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ ، إِلا مُجَّاعَةُ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رُشَيْدٍسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے اس طرح شرم کرو جس طرح اس سے شرم کرنے کا حق ہے۔“ لوگ کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم الحمد للہ اللہ تعالیٰ سے شرم کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے اس طرح شرم کرے جس طرح اس سے شرم کرنے کا حق ہے تو وہ اپنے سر کی اور جو اس نے محفوظ رکھا ہے اس کی اور پیٹ کی حفاظت کرے، اور موت اور بوسیدہ ہو جانے کو یاد رکھے، اور جو آخرت کا ارادہ کرے وہ دنیا کی زینت ترک کر دیتا ہے۔ جس نے اس طرح کیا تو اس نے اللہ سے اس طرح شرم کیا جس طرح اس سے شرم کرنے کا حق ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ سے شرم و حیاء کرو جیسا کہ اس سے شرم و حیاء کرنے کا حق ہے “ ۱؎، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اللہ سے شرم و حیاء کرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ” حیاء کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیاء کرنے کا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو ۲؎، اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو ۳؎، اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کیا کرو، اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب و زینت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2458]
وضاحت:
1؎:
یعنی اللہ سے پورا پورا ڈرو، جیساکہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔
2؎:
یعنی اپنا سر غیر اللہ کے سامنے مت جھکانا، نہ ریاکاری کے ساتھ عبادت کرنا، اور نہ ہی اپنی زبان، آنکھ اور کان کا غلط استعمال کرنا۔
3؎:
یعنی حرام کمائی سے اپنا پیٹ مت بھرو، اسی طرح شرمگاہ، ہاتھ، پاؤں اور دل کی اس طرح حفاظت کرو، کہ ان سے غلط کام نہ ہونے پائے۔