حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرْقِي الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِرْدَاسٍ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعَقِيلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَائِرُ النَّفْسِ ، وَأَمْسَى وَهُوَ كَذَلِكَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَالِي أَرَاكَ خَائِرًا ؟ فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ وَعَدَنِي أَنْ يَأْتِيَنِي وَمَا أَخْلَفَنِي قَطُّ ، فَنَظَرُوا فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ الْجَرْوِ ، فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِذَلِكَ الْمَكَانَ فَغُسِلَ بِالْمَاءِ ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَقَالَ : إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَأْتِيَنِي ، وَمَا أَخْلَفْتَنِي قَطُّ ، قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ ، وَلا صُورَةٌ ؟ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُمَارَةَ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ، وَلا رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِلا عُمَارَةُ ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَغَيْرُهُمَا مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاسیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی) فرماتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح اٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل اور بدمزہ ہوگئی، اور پھر آگے شام اسی حالت میں ہوگئی، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کی طبیعت کو بوجھل محسوس کرتی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ آئیں گے، مجھ سے انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔“ تو پھر انہوں نے دیکھا کہ چارپائی کے نیچے ایک کتیا کا بچہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو نکال کر اس جگہ کو پانی سے دھویا جائے۔ تو پھر جبریل علیہ السلام آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آپ نے مجھ سے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی، اور اس دفعہ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور آپ نہیں آئے؟“ جبریل علیہ السلام نے کہا: ”جس گھر میں کتا یا تصویر ہو اس میں ہم نہیں جایا کرتے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تیر کو پانسہ بنانا، اس سے جوا کھیلنا یا فال نکالنا کسی بھی پیغمبر کی شان نہیں ہوسکتی۔
قسطلانی نے کہا کہ مکہ کے کافر جب سفر وغیرہ پر نکلتے تو ان پانسوں سے فال نکالا کرتے تھے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بطور معبود کسی بت کو پوجا جائے یا کسی نبی اور ولی کی قبر یا مورت کو، شرک ہونے میں ہر دو برابر ہیں۔
جونادان مسلمان کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں جس شرک کی مذمت ہے وہ کافروں کی بت پرستی مراد ہے۔
ہم مسلمان اولیاءاللہ کو محض بطور وسیلہ پوجتے ہیں۔
ان نادانوں کا یہ کہنا سراسر فریب نفس ہے۔
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمگین اور اداس اٹھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ کی حالت آج کچھ بدلی بدلی عجیب و غریب لگ رہی ہے، آپ نے فرمایا: ” جبرائیل نے مجھ سے رات میں ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ ملنے نہیں آئے، اللہ کی قسم! انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی “، آپ اس دن اسی طرح (غمزدہ) رہے، پھر آپ کو کتے کے ایک بچے (پلے) کا خیال آیا ج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4288]
(2) اس حدیث مبارکہ سے وعدہ وفا کرنے کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے۔ وعدہ وفائی ضروری ہے۔ جس سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ وعدے کا منتظر رہتا ہے۔ اندازہ لگایئے ایک بار جبریل امین علیہ السلام وعدے کے مطابق نہیں آئے تو رسول اللہ ﷺ سارا دن پریشان رہے۔
(3) معلوم ہوا فرشتے بھی قوانین الہٰی کے پابند ہیں، نیز انبیاء کے لیے بھی قانون بدلا نہیں جاتا ورنہ رسول اکرم ﷺ کے لیے قانون بدل دیا جاتا۔ واللہ أعلم