حدیث نمبر: 668
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْدَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ السَّدُوسِيِّ ، إِلا أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ وَهْبٍ أَبُو السَّوَّارِ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ مِنْ كِبَارِ تَابِعِي الْبَصْرَةِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا سب کی سب بہتری ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 668
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6117، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 37، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4796، وأحمد فى «مسنده» برقم: 20131، والطبراني فى«الكبير» برقم: 238، 387، والطبراني فى «الصغير» برقم: 231، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 25852»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6117 | صحيح مسلم: 37

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6117 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6117. حضرت عمر بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: حیا سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔ یہ سن کر بشیر بن کعب نے کہا: حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیا سے وقار پیدا ہوتا ہے اور حیا سے سکون قلب میسر آتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور مجھے اپنی (دو ورقی) کتاب کی باتیں سناتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6117]
حدیث حاشیہ: حالانکہ بشیر بن کعب نے حکیموں کی کتاب سے حدیث کی تائید کی تھی مگر عمران نے اس کو بھی پسند نہیں کیا کیونکہ حدیث یا آیت سننے کے بعد پھر اوروں کا کلام سننے کی ضرورت نہیں، جب آفتاب آ گیا تو مشعل یا چراغ کی کیا ضرورت ہے۔
اس حدیث سے ان بعض لوگون کو نصیحت لینی چاہیئے جو حدیث کا معارضہ کسی امام یا مجتہد کے قول سے کرتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے ہی مقلدین کے بارے میں بصد افسوس کہا ہے ''فما یکون جوابھم یوم یقوم الناس لرب العالمین'' قیامت کے دن ایسے لوگ جب بارگاہ الہٰی میں کھڑے ہوں گے اور سوال ہوگا کہ تم نے میرے رسول کا ارشاد کا سن کر فلاں امام کا قول کیوں اختیار کیا تو ایسے لوگ اللہ پاک کو کیا جواب دیں گے دیکھو۔
حجۃ اللہ البالغۃ اردو، صفحہ: 240۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6117 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6117 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6117. حضرت عمر بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: حیا سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔ یہ سن کر بشیر بن کعب نے کہا: حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیا سے وقار پیدا ہوتا ہے اور حیا سے سکون قلب میسر آتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور مجھے اپنی (دو ورقی) کتاب کی باتیں سناتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6117]
حدیث حاشیہ:
(1)
جو شخص حیا کی صفت سے متصف ہو گا اور وہ لوگوں سے حیا کرے گا کہ اگر لوگ اسے فسق و فجور میں مبتلا دیکھیں گے تو کیا کہیں گے ایسا انسان اللہ تعالیٰ سے بہت حیا کرے گا۔
جو انسان اللہ تعالیٰ سے حیا کرتا ہو تو حیا اسے حقوق و واجبات کے ضائع کرنے اور گناہوں کے ارتکاب سے روکے گی کیونکہ حیا فواحش و منکرات سے منع کرتی ہے اور نیکی پر ابھارتی ہے، جیسے ایمان، اہل ایمان کو فسق و فجور سے منع کرتا ہے اور گناہوں سے دور رکھتا ہے، لہذا ان امور میں حیا، ایمان کے مساوی ہے اگرچہ حیا ایک طبعی چیز ہے اور ایمان، مومن کا کسبی فعل ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’حیا ایمان کا حصہ ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 24) (2)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، اس لیے ناراض ہوئے کہ حدیث سننے کے بعد دوسروں کا کلام سننے کی کوئی ضرورت نہیں جبکہ بشیر بن کعب نے حدیث سننے کے بعد حکماء کی حکمت بیان کرنا شروع کر دی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6117 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 37 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’حیاء خیرو بھلائی ہی کا باعث ہے۔‘‘ تو بشیر بن کعب نے کہا: حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس میں بعض وقار سے اور بعض سکون سے، تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمھیں رسول اللہ ﷺکی حدیث سناتا ہوں اور تم (اس کے مقابلہ میں) اپنی کتابوں کی باتیں سناتے ہو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:156]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: وقار: سوچ، سمجھ کر کام کرنا، عجلت اور جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرنا، اس کے قریب سکینہ ہے، اطمینان اور سکون وثبات، اضطراب و گھبراہٹ سے احتراز کرنا۔
فوائد ومسائل:
قرآن وحدیث کے مقابلہ میں کسی بڑے سے بڑے دانشمند یا امام کا قول پیش کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ رسول معصوم ہے اور دوسرا کوئی انسان معصوم نہیں۔
آئندہ روایت میں تفصیل ہے کہ اس نے حیاء کی دو قسمین بنائیں اور کہا کہ بعض تو وقار اور سکون ہوتے ہیں اور بعض دفعہ حیاء آدمی کی کمزوری اور بزدلی ہوتا ہے، اس پر صحابی (رضی اللہ عنہ)
کو غصہ آیا کہ نبی ﷺ تو حیا کو سراسر خیر کہہ رہے ہیں اور یہ حیاء کی بعض قسموں کو ضعف اوربزدلی قرار دے رہا ہے اس لیے اس پر ناراض ہوئے جیسا کہ اگلی حدیث میں تفصیل آرہی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 37 سے ماخوذ ہے۔