حدیث نمبر: 66
حَدَّثَنَا مَسِيحُ بْنُ حَاتِمٍ الْعَتَكِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ، قَالَ : خَطَبَ الْمَأْمُونُ ، فَذَكَرَ الْحَيَاءَ فَأَكْثَرَ ، ثُمّ قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ ، وَالإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْمَأْمُونِ ، إِلا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوبکرہ اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں جائے گا، اور فحش گوئی بداخلاقی ہے اور بداخلاقی آگ میں لے جائے گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4184 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شرم و حیاء کا بیان۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حیاء ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی «جفا» (ظلم و زیادتی) ہے اور «جفا» (ظلم زیادتی) کا بدلہ جہنم ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4184]
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” حیاء ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی «جفا» (ظلم و زیادتی) ہے اور «جفا» (ظلم زیادتی) کا بدلہ جہنم ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4184]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اچھے اعمال کی طرح اچھے اخلاق بھی ایمان میں شامل ہیں۔
(2)
مومن کو اچھی عادتوں کا پابند ہونا چاہیے اور بری عادتوں سے متنفر ہونا چاہیے۔
(3)
بد کلامی گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا وغیرہ ہے جو مومن کی شان کے لائق نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
اچھے اعمال کی طرح اچھے اخلاق بھی ایمان میں شامل ہیں۔
(2)
مومن کو اچھی عادتوں کا پابند ہونا چاہیے اور بری عادتوں سے متنفر ہونا چاہیے۔
(3)
بد کلامی گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا وغیرہ ہے جو مومن کی شان کے لائق نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4184 سے ماخوذ ہے۔