حدیث نمبر: 652
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَطِيرٍ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ الْقَاضِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كَانَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلامُ لا يَأْكُلُ إِلا مِنْ كَسْبِ يَدِهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، إِلا الْوَلِيدُ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي السَّرِيَّ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کے بغیر کچھ نہیں کھاتے تھے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 652
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2073، 3417، 4713، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6225، 6227، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 11805، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8276، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1183، والطبراني فى «الصغير» برقم: 17، والبزار فى «مسنده» برقم: 8734»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2073

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2073 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2073. حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں: "اللہ کے نبی حضرت داود ؑ اپنے ہاتھ کی کمائی ہی سے کھاتے تھے۔ "[صحيح بخاري، حديث نمبر:2073]
حدیث حاشیہ: حضرت آدم علیہ السلام کھیتی کا کام اور حضرت داؤد علیہ السلام لوہار کا کام اور حضرت نوح علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے اور حضرت ادریس علیہ السلام کپڑے سیا کرتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بکریاں چرایا کرتے تھے۔
اور ہمارے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم تجارت پیشہ تھے، لہٰذا کسی بھی حلال اور جائز پیشہ کو حقیر جاننا اسلامی شریعت میں سخت ناروا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2073 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2073 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2073. حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں: "اللہ کے نبی حضرت داود ؑ اپنے ہاتھ کی کمائی ہی سے کھاتے تھے۔ "[صحيح بخاري، حديث نمبر:2073]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کا بہترین کسب وہ ہے جو اپنے ہاتھ سے کیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں سیدنا داود علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور اسے کسب ید کے بہتر اور پاکیزہ ہونے کی دلیل بنایا۔
حضرت دواد علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم نے بیان کیا ہے کہ وہ زر ہیں بناتے تھے۔
وہ اگر چہ ان کے محتاج نہیں تھے کیونکہ وہ زمین میں اللہ کے خلیفہ تھے،تاہم انھوں نے کھانے پینے اور گھر کے گزر اوقات کے لیے افضل اور بہتر طریقہ اختیار فرمایا۔
(2)
واضح رہے کہ معیشت کے بنیادی ذرائع تین ہیں: زراعت، تجارت اور صنعت وحرفت۔
بعض حضرات نے تجارت کو افضل کہا ہے جبکہ کچھ حضرات زراعت کے پیشے کو بہتر قرار دیتے ہیں،بہر صورت جو کمائی انسان کے ہاتھ سے حاصل ہواسے حدیث میں بہتر اور پاکیزہ کہا گیا ہے۔
(فتح الباری: 4/387)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2073 سے ماخوذ ہے۔