حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرِّيُّ الْمَسِيرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ "إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمِرُ ، فَضَرَبَ وَجْهَ النَّاقَةِ ، وَصَرَفَهَا عَنِ الطَّرِيقِ ، وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَتَسْمَعُ أَتَسْمَعُ ؟ حَتَّى انْقَطَعَ الصَّوْتُ ، فَقُلْتُ : لا أَسْمَعُ ، فَرَدَّهَا إِلَى الطَّرِيقِ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْمُطْعِمِ ، إِلا خَالِدٌ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُهُ مَحْمُودٌ ، وَلَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ نَافِعٍ إِلا الْمُطْعِمُ ، وَمَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، تَفَرَّدَ بِهِ عَنْ مَيْمُونٍ أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ ، وَتَفَرَّدَ بِهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِنافع کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ سواری پر پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک وہ ایک چرواہے کے قریب سے گزرے جو بانسری بجا رہا تھا، تو انہوں نے اونٹنی کو اس کے چہرے پر مار کر اس راستے سے ہٹا دیا اور اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں، پھر بار بار مجھ سے پوچھتے رہے: کیا اب بھی وہ آواز تمہیں سنائی دے رہی ہے؟ یہاں تک کہ آواز ختم ہو گئی، تو میں نے کہا: اب مجھے آواز سنائی نہیں دے رہی، تو انہوں نے سواری کو اسی راستے پر ڈال لیا اور کہا: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4924]
امام ابو داؤد کا قول صحیح نہیں ہے، یہ روایت حسن اور بقول علامہ البانی ؒ صحیح ہے اور دیگر احادیث سے ثابت ہے کہ (لهو الحديث) سے مراد آلاتِ موسیقی ہیں، جنکی قطعاََ اجازت نہیں ہے۔
اور بالخصوص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام کو طبلے کی تھاپ پر بجانا ان کی انتہائی توہین ہے اور موسیقی کی تمام لغویات حرام ہیں سوائے دف کے۔
محمود بن خالد الدمشقی نے صحیح سند کے ساتھ امام نافع سے نقل کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دفعہ بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیں اور فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن ابي داؤد: 2/ 326 ح 4924 و إسناده حسن و المعجم الكبير للطبراني: 1/ 13 و تحريم النرود الشطرنج و الملاهي للآجري ح 65، مسند احمد 2/ 38ح 4965، السنن الكبري للبيهقي: 1/ 222]
اس حدیث کے بارے میں علامہ ابن الوزیر الیمانی نے ”توضیح الافکار“ [ج 1 ص 150] میں لکھا ہے کہ: «صحيح على الأصح» سب سے صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 14 صفحہ 8 تا 11
مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1901]
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے تاہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما کا یہ عمل اور ان کا یہ کہنا کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے کیا کرتے تھے جناب نافع کے واسطے سے صحیح اور حسن سند کے ساتھ مسند احمد، سنن ابی داؤد، ابن حبان، طبرانی صغیر اور بیہقی میں مروی ہے جسے دیگر محققین نے بھی صحیح اور حسن قرار دیا ہے لیکن ان روایات میں ڈھول کی آواز کی بجائے بانسری کی آواز کا ذکر ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے: (الموسوعة الحدیثیة مسندالإمام أحمد: 8؍132، 133، 134، وسنن ابی داؤد، الأدب، باب کراہیة الغناء والزمر، حدیث: 4924، 4926، والطبرانی: 1؍131، وصحیح ابن حبان، حدیث: 2013، والبیہقی: 10؍222)
لہٰذا صحیح احادیث سے بھی اس بات کی تائید ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کو ساز کی آواز سے نفرت تھی۔
(2)
گناہ والی آواز سے جس قدر ممکن ہو بچنا چاہیے۔
(3)
دف کے سوا کوئی ساز بجانا سننا جائز نہیں۔
(4)
اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ دف کی اجازت سے جو لوگ ڈھول ڈھمکوں ساز و موسیقی اور ہر قسم کے راگ و رنگ کا جواز کشید کرتے ہیں وہ یکسر غلط ہے۔
دف کے علاوہ مذکورہ تمام قسمیں یکسر ناجائز اور مطلقا حرام اور شیطانی کام ہیں۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ’’مسنون نکاح اور شادی بیان کی رسومات‘‘ مولفہ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ