حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَبْدُوسٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقَوِيِّ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقَوِيِّ ، إِلا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ ، وَإِنَّمَا لُقِّبَ بِالْقَوِيِّ لِقُوَّتِهِ عَلَى الْعِبَادَةِ ، صَامَ حَتَّى خَوَى ، وَبَكَى حَتَّى عَمِيَ ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ حَتَّى أُقْعِدَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اپنے جد سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3685 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ (چوسر یا ڈھولک) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3685]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، کوبہ (چوسر یا ڈھولک) اور غبیراء سے منع کیا، اور فرمایا: ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سلام ابو عبید نے کہا ہے: غبیراء ایسی شراب ہے جو مکئی سے بنائی جاتی ہے حبشہ کے لوگ اسے بناتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3685]
فوائد ومسائل:
فائدہ: موسیقی کا بھی ایک معنوی نشہ ہوتا ہے۔
ان میں سارنگی ڈھول ڈھولکی قسم کی مزامیر سبھی حرام ہیں۔
صرف دف کی رخصت ملتی ہے۔
فائدہ: موسیقی کا بھی ایک معنوی نشہ ہوتا ہے۔
ان میں سارنگی ڈھول ڈھولکی قسم کی مزامیر سبھی حرام ہیں۔
صرف دف کی رخصت ملتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3685 سے ماخوذ ہے۔