حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا بَشَّارُ بْنُ كِدَامٍ أَبُو مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّمَا الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ بَشَّارٍ ، إِلا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَلا نَحْفَظُ لِبَشَّارٍ حَدِيثًا مُسْنَدًا غَيْرَ هَذَاترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حلف میں قسم کو توڑنا ہوگا یا ندامت۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2103 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قسم کھانے میں یا قسم توڑنا ہوتی ہے یا شرمندگی ہوتی ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قسم یا تو حنث (قسم توڑنا) ہے یا ندامت (شرمندگی) ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2103]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قسم یا تو حنث (قسم توڑنا) ہے یا ندامت (شرمندگی) ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2103]
اردو حاشہ:
فائدہ: یہ روایت ضعیف ہے۔
صحیح روایت یہ ہے کہ غلط قسم توڑ کر کفارہ ادا کر دیا جائے اور جو کام صحیح ہو اسے کر لیا جائے۔
یہ اصرار نہ کیا جائے کہ میں نے فلاں کار خیر نہیں کرنا کیونکہ میں نے قسم کھا لی ہے۔
فائدہ: یہ روایت ضعیف ہے۔
صحیح روایت یہ ہے کہ غلط قسم توڑ کر کفارہ ادا کر دیا جائے اور جو کام صحیح ہو اسے کر لیا جائے۔
یہ اصرار نہ کیا جائے کہ میں نے فلاں کار خیر نہیں کرنا کیونکہ میں نے قسم کھا لی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2103 سے ماخوذ ہے۔