حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَنْصُورٍ الْبَجَلِيُّ الْكَشِّيُّ ، بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ ، إِلا حَمَّادٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ قُتَيْبَةُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”پلانے والا سب سے آخر میں پیا کرتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الأطعمة و الأشربة / حدیث: 639
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 595، 7471، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 681، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 409، 410، 989، 990، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1460، 1579، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 614، 615، 616، 845، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 921، 1595، وأبو داود فى «سننه» برقم: 437، 5228، والترمذي فى «جامعه» برقم: 177، 1894، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2181، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 698، 3434، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1794،وأحمد فى «مسنده» برقم: 22982، والطبراني فى«الكبير» برقم: 3271، 53، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 6423، والطبراني فى «الصغير» برقم: 871، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 4789، 24708»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1894 | سنن ابي داود: 5228 | سنن ابن ماجه: 3434

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5228 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی کسی کو «حفظك الله» اللہ تم کو اپنی حفاظت میں رکھے کہے اس کا بیان`
عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اس رات رہا (آپ کو چھوڑ کر نہ گیا) تو آپ نے فرمایا: اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5228]
فوائد ومسائل:
 یہ مفصل حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے (صحیح مسلم، المساجد، حدیث:٢٨١) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس کی حفاظت پر آپ کی طرف سے دعاملی ہے تو امید رکھنی چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہو ئی شریعت اور آپ کی احادیث کی حفاظت پر یہ بھی فضلیت مل سکتی ہے جیسے کہ دوسری حدیث میں صراحت سے آیاہے اللہ خوش وخرم رکھے اس بندے کو جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا اور اسی طرح آگے پہنچا دیا جس طرح کہ اسے سنا۔
(جامع الترمذي‘ العلم‘ حدیث:2658)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5228 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3434 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیئے۔`
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3434]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ چیز آداب میں شامل ہے۔
کہ خود آخر میں پیے اسی طرح کوئی چیز تقسیم کرے تو سب سے آخر میں حصہ لے۔
تاہم ایسا کرنا واجب نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3434 سے ماخوذ ہے۔