معجم صغير للطبراني
كتاب الأطعمة و الأشربة— کھانے پینے کا بیان
باب: اہلِ فارس کے ایک حلوے ”خبیص“ کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمِرْبَدِ ، فَرَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُودُ نَاقَةً تَحْمِلُ دَقِيقًا وَسَمْنًا وَعَسَلا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "أَنِخْ ، فَأَنَاخَ فَدَعَا بِبُرْمَةَ فَجَعَلَ فِيهَا مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ وَالدَّقِيقِ ، ثُمَّ أَمَرَ ، فَأَوْقَدَ تَحْتَهَا حَتَّى نَضَجَ ، ثُمَّ قَالَ : كُلُوا ، فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا شَيْءٌ يَدْعُوهُ أَهْلُ فَارِسٍ الْخَبِيصَ "، لا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍمحمد بن حمزہ بن یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے باڑے کی طرف گئے تو دیکھا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایک اونٹنی کو کھینچے لا رہے ہیں جس پر گھی، شہد اور آٹا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اونٹنی کو بٹھاؤ۔“ انہوں نے اسے بٹھا دیا، پھر ایک ہنڈیا منگوائی اور اس میں ان تینوں چیزوں سے کچھ ڈالا، پھر حکم دیا تو اس کے نیچے آگ جلائی گئی، جب ہنڈیا پک گئی تو فرمایا: ”اسے کھاؤ“، اور خود بھی اس سے کھایا، پھر فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے جسے اہل فارس خبیص یعنی حلوا کہتے ہیں۔“