حدیث نمبر: 608
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الْفَزَارِيُّ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْقَطَّانُ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الأَسَدِيُّ أَبُو أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، يَقُولُ : إِنَّ الْعِزَّةَ إِزَارِي ، وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي فِيهِمَا عَذَّبْتُهُ "، لا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَبُو أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: عزت میری تہبند ہے اور بڑائی میری چادر ہے اور جو مجھ سے چھینے گا میں اس کو عذاب کروں گا۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب اللباس / حدیث: 608
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف وله شواهد
تخریج حدیث «إسناده ضعيف وله شواهد ،وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 3380، والطبراني فى «الصغير» برقم: 331 ¤قال الهيثمي: وفيه عبد الله بن الزبير والد أبي أحمد ضعفه أبو زرعة وغيره ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (1 / 99) ¤ [وله شواهد من حديث أبى هريرة الدوسي، فأما حديث أبى هريرة الدوسي، أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2620، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4090، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4174، قال الشيخ الألباني: صحيح ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7499، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1183، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2509، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 203»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4090 | سنن ابن ماجه: 4174 | مسند الحميدي: 1183

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4090 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تکبر اور گھمنڈ کی برائی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کا فرمان ہے: بڑائی (کبریائی) میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند، تو جو کوئی ان دونوں چیزوں میں کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4090]
فوائد ومسائل:
1: ردا اس چادر کو کہتے ہیں جو انسان اپنے جسم کے اوپر اوڑھتا ہے اور ازارنیچے کی چادرکو کہتے ہیں جو بطور تہمبنداستعمال ہوتی ہے۔

2: اللہ عزوجل کی تمام تر صفات پر ہمارا ایمان ہے اور ہم انہیں بلا کیف اور بلا تشبیہ تسلیم کرتے ہیں، کمال کبریائی اورعظمت صرف اور صرف اللہ ہی کو زیبا ہے اور انہیں رداء اور ازار سے تعبیرکرنے کا مفہوم۔
۔
۔
۔
۔
واللہ اعلم۔
  بقول علامہ منذری۔
۔
۔
۔
۔
یہ ہے کہ جس طرح مخلوق میں سے کوئی کسی غیر کو اپنی رداء یا ازارمیں شریک نہیں کرتا تو اللہ عزوجل کا مقام بے انتہا بے انتہا بلدوبالا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4090 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4174 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی (کبریائی) میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند، جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑے، (یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی دعویٰ کرے) میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4174]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عظمت و کبریائی اللہ تعالی کی ذاتی صفات ہیں۔
اگر مخلوق میں کسی کو وقتی طور پر محدود عظمت وشان حاصل ہے تو وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہے لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ اس پر اللہ کا شکر کرے نہ کہ اپنی عظمت کا دعوی کرتے ہوئے تکبر کی روش اختیار کرے۔

(2)
تکبر کرنے والا گویا خدائی صفات کا حامل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس لیے یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

(3)
انسان کی عظمت اللہ کے سامنے جھکنے اور اس کا بندہ بننے میں ہے فخر و تکبر میں نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4174 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1183 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1183- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: کبر یائی میری چادر ہے، عزت میرا ازار ہے، جوشخص ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں میرے ساتھ مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1183]
فائدہ:
یہ حد یث قدسی ہے، کبریائی اور بڑائی اللہ تعالیٰ کی چادر ہے، جو تکبر کرتا ہے، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی چادر کو ہاتھ ڈالا ہے، انسان اللہ کے مقابلے میں بالکل حقیر ہے، انسان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ تکبر کرے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1181 سے ماخوذ ہے۔