حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ الْقَاضِي ، بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الحَرَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَصْفَرِ ، وَالْقَسِّيِّ ، وَخَاتَمِ الذَّهَبِ ، وَعَنِ الْمُكَفَّفِ بِالدِّيبَاجِ ، قَالَ : وَأَعْلَمُ أَنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ ، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ جُحَادَةَ ، إِلا زَيْدٌ تَفَرَّدَ بِهِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، وَلا يُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معصفر (زرد) رنگ کے کپڑوں سے، دھاری دار ریشمی کپڑوں سے، سونے کی انگوٹھی سے اور آستینوں اور جیب وغیرہ پر دیباج (ریشم کاری) سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”میں جانتا ہوں کہ میں آپ کا خیرخواہ ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3602 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مردوں کے لیے پیلے کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3602]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3602]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: حضرت علی ؓ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اے علی! کسم کا رنگا ہوا مت پہن۔
یہ نہیں فرمایا: لوگو! یہ رنگ نہ پہنو تاہم حکم سب کے لئے ایک ہی ہے۔
فوائد ومسائل: حضرت علی ؓ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اے علی! کسم کا رنگا ہوا مت پہن۔
یہ نہیں فرمایا: لوگو! یہ رنگ نہ پہنو تاہم حکم سب کے لئے ایک ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3602 سے ماخوذ ہے۔