حدیث نمبر: 599
وَبِإِسْنَادِهِ وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوْدَاءَ "، لَمْ يَرْوِ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ عَنْ عَمَّارٍ ، إِلا ابْنُهُ مُعَاوِيَةُ ، وَلا عَنْ مُعَاوِيَةَ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ ، تَفَرَّدَ بِهِ مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، وَالدُّهْنِيُّونَ فَخِذٌ مِنْ بَجِيلَةَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اسی سند کے ساتھ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا سیاہ رنگ کا تھا۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الجهاد / حدیث: 599
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 1758، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7969، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1077 ¤قال الهيثمي: في إسناده شريك النخعي وثقه النسائي وغيره وفيه ضعف وبقية رجاله ثقات ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (5 / 321)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2869 | سنن ابي داود: 2592 | سنن ابن ماجه: 2817

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2869 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جھنڈے کے ساتھ مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں (یعنی فتح مکہ کے دن) سفید جھنڈا لیے ہوئے داخل ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2869]
اردو حاشہ: یہ فتح مکہ کی بات ہے، اس لیے جھنڈا ضروری تھا ورنہ حجۃ الوداع کے موقع پر کوئی جھنڈا وغیرہ نہ تھا۔ بعض روایات میں آپﷺ کا جھنڈا سیاہ بتلایا گیا ہے۔ یہ کوئی تعارض نہیں۔ لشکر کا بڑا جھنڈا سیاہ تھا اور آپ کا ذاتی جھنڈا سفید تھا۔ ویسے بھی جنگ میں کئی جھنڈے ہوتے ہیں۔ فتح مکہ میں بھی مہاجرین کا الگ جھنڈا تھا، انصار کا الگ۔ اسی طرح دوسرے گروہوں کے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2869 سے ماخوذ ہے۔