حدیث نمبر: 589
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي الدَّمِيكِ الْمُسْتَمْلِي ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ ، عَنْ هِلالٍ الْوَزَّانِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ : "اهْجُ الْمُشْرِكِينَ ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِلالٍ ، إِلا ابْنُ الْمُجَالِدِ ، تَفَرَّدَ بِهِ سَبَلانُ ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، عَنْ سَبَلانَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”مشرکین کی ہجو کرو، اے اللہ! روح القدس سے اس کی مدد فرما۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الجهاد / حدیث: 589
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7147، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6111، 6112، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5015، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2846، وأحمد فى «مسنده» برقم: 25075، 25076، والطبراني فى«الكبير» برقم: 3580، 3581، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 5117، والطبراني فى «الصغير» برقم: 769، والترمذي فى «الشمائل» برقم: 250، 251، وله شواهد من حديث البراء بن عازب الأوسي، فأما حديث البراء بن عازب الأوسي، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3213، 4123، 6153، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2486، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26545»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2846 | سنن ابي داود: 5015

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5015 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شعر کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرتے تھے، تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً روح القدس (جبرائیل) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5015]
فوائد ومسائل:

مسجد میں بصورت اشعار رسول مقبول ﷺ پیش کرنا ایک مباح عمل ہے۔


یہ حضرت حسان کا عظیم شرف تھا کہ ایک اعلیٰ مقصد کے لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنا منبر پیش فرمایا۔
اور تایئد وجبرئیل کی خوشخبری سنائی۔


اس حدیث کا پس منظر پیش نظر رکھنا چاہیے۔
کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واقعہ افک میں ملوث ہوگئے تھے۔
اور انہیں حد بھی لگائی گئی تھی۔
بعد ازاں جب کسی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے ان کی مذمت کی تو انہوں نے اپنے ذاتی معاملے سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی اسلام اور رسول اللہﷺ کے لئے خدمات کا برملا اظہار فرمایا۔
جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5015 سے ماخوذ ہے۔