مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 578
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ أَبُو بَكْرٍ الْكِلابِيُّ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرِّيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، قَالَ : اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، لا تَغُلُّوا وَلا تَغْدِرُوا ، وَلا تُمَثِّلُوا ، وَلا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَلا شَيْخًا كَبِيرًا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، إِلا إِسْرَائِيلُ ، وَلا عَنْهُ إِلا عُثْمَانُ ، تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی سریہ بھیجتے تو یوں کہتے: ”اللہ کے نام کے ساتھ جنگ کرو، اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو، جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اس کے ساتھ جنگ کرو۔ خیانت نہ کرو، دھوکہ نہ دو، مثلہ نہ کرو، کسی بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرو۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الجهاد / حدیث: 578
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2614

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2614 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجاہدین کو رخصت کرتے وقت) فرمایا: تم لوگ اللہ کے نام سے، اللہ کی تائید اور توفیق کے ساتھ، اللہ کے رسول کے دین پر جاؤ، اور بوڑھوں کو جو مرنے والے ہوں نہ مارنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹے لڑکوں کو، اور نہ ہی عورتوں کو، اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور غنیمت کے مال کو اکٹھا کر لینا، صلح کرنا اور نیکی کرنا، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2614]
فوائد ومسائل:
لڑائی میں کسی بوڑھے شخص کو قتل نہیں کرنا۔
مگر ایسے بوڑھے جن کے بارے میں معلوم ہو کہ منصوبے اور پروگرام دیتے ہیں۔
اور ایسی عورتیں جو جاسوسی وغیرہ کے معاملات میں ملوث ہوں۔
ان کو قتل کرنا جائز ہوگا۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2614 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔