حدیث نمبر: 575
حَدَّثَنَا حَمِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمِدٍ أَبُو نَصْرٍ الْكَاتِبُ ، حَدَّثَنَا كُرْدُوسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي ِّ ، قَالَ : كَانَ الْعَبَّاسُ عَمّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ يَحْرُسُهُ ، فَلَمَّا نزلت هَذِهِ الآيَةُ : "يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أنزل إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ سورة المائدة آية 67 ، تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَرْسَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ فُضَيْلٍ ، إِلا الْمُعَلَّى ، وَلا يُرْوَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ان کی نگرانی کر رہے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی: ”﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا وہ آگے پہنچاؤ، اگر ایسا نہ کرو گے تو تم اس کا پیغام نہ پہنچاؤ گے، اور اللہ تمہیں لوگوں سے بچائے گا۔“ (المائدہ: 67) اس آیت کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہرہ داری ترک کر دی۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الجهاد / حدیث: 575
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، أخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 3510، والطبراني فى «الصغير» برقم: 418، فأما حديث عائشة بنت أبى بكر الصديق أخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 3046، قال الشيخ الألباني: حسن ، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 17803، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3240، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 768»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3046 | مسند الحميدي: 31

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3046 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نگرانی کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمك من الناس» اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا (المائدہ: ۶۷)، نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا: تم (اپنے گھروں کو) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3046]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
 ’’اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا‘‘ (المائدۃ: 67)۔

2؎:
اللہ کا یہ وعدہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ خاص تھا، مسلمانوں کے دوسرے ذمہ دار اپنی حفاظت کے لیے پہرہ داری کا نظام اپنا سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3046 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 31 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
31- طارق بن شہاب کہتے ہیں: یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر یہ آیت ہم لوگوں پر نازل ہوئی ہوتی۔ آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کردیا اور تمہارے لیے اسلام کیے دین ہونے سے راضی ہوگیا۔(5-المائدة:13) تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی؟ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی تھی اور جمعہ کے دن میں نازل ہوئی تھی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:31]
فائدہ:
اسلام میں صرف دوعید میں ہیں: ➊ عیداالنخی ➋ عید الفطر۔ ان کے علاوہ اسلام نے کسی اور دن کو عید نہیں کہا۔ مسلمانوں کو قرآن وحدیث کی تابعداری کرنی چاہیے، آج کل بعض لوگوں نے دین کے نام پر بدعات وخرافات کو عروج دے رکھا ہے، آئے دن بڑی سے بڑی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں، انھی بدعات میں سے عید میلاد النبی بھی ہے، کس طرح نام نہاد اہل سنت اسلام سے مذاق کر رہے ہیں، الامان والحفیظ۔
ا«لْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ» (المائده: 3) واقعتاً عظیم المرتبت آیت ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے تین اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں: ① دین مکمل ہو گیا ہے، اس میں کسی قسم کے اضافے یا کمی کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی امت کے لیے تکمیل دین ایک بہت بڑا اعزاز و انعام ہے جو امت محمدیہ کو نصیب ہوا۔
② دین اسلام ایک نعمت باری تعالیٰ ہے، اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔
③ دین اسلام اللہ تعالی کی پسند ہے تو مسلمانوں کوبھی پسند ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرآن مجید کے ماہر تھے حتی کہ کوئی آیت کریمہ کہاں اور کب نازل ہوئی ہے، اس کا بھی علم رکھتے تھے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 31 سے ماخوذ ہے۔