حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ هَارُونَ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، قَالَ : اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، وَلا تَغُلُّوا ، وَلا تَغْدِرُوا ، وَلا تَجْبُنُوا ، وَلا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ، وَلا امْرَأَةً ، وَلا شَيْخًا كَبِيرًا ، وَإِذَا حَاصَرْتُمْ أَهْلَ قَرْيَةٍ أَوْ حِصْنٍ فَلا تَعْطُوهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ ، وَلَكِنْ أَعْطَوْهُمْ ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تَخْفِرُوا بِذِمَمِكُمْ وَذِمَمِ آبَائِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَخْفِرُوا بِذِمَّةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، إِلا وَكِيعٌ ، بِمِصْرَسیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر بھیجتے تو کہتے: ”اللہ کے نام سے جنگ کرو اور اللہ کی راہ میں کرو۔ جو اللہ سے کفر کرے اس سے جنگ کرو۔ خیانت کرو نہ دھوکہ دو، اور نہ بزدل بنو، کوئی بچہ قتل کرو اور نہ کوئی عورت اور نہ بوڑھا، اور جب کسی قلعے یا بستی کو تم گھیرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کا عہد نہ دو، بلکہ ان کو اپنے اور اپنے آباء کی ذمہ داری دو، کیونکہ تم اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری کی خلاف ورزی کرو تو اس سے تمہارے اپنے اور اپنے آباء کے ذمہ کی خلاف ورزی بہتر ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر پر امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اپنے نفس کے بارے میں سے اللہ سے ڈرنے اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے تھے، اس کے بعد آپ فرماتے: اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو، ان لوگوں سے جو اللہ کا انکار کرنے والے ہیں، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، عہد نہ توڑو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے جاؤ تو ان کو تین میں سے کسی ایک بات کی دعوت دو ان میں سے جسے وہ مان لیں قبول کر لو اور ان کے سات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1617]
وضاحت: 1؎: یعنی اگر کفار ومشرکین غیر مشروط طور پر بغیر کسی معین شرط اور پختہ عہد کے اپنے آپ کو امیر لشکر کے حوالہ کرنے پر تیار ہوں تو بہتر، ورنہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق امیر سے معاملہ کرناچاہیں تو امیر کو ایسا نہیں کرنا ہے، کیوں کہ اسے نہیں معلوم کہ اللہ نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے، یہ حدیث اصول جہاد کے بڑے معتبر اصولوں پر مشتمل ہے جو معمولی سے غور وتامل سے واضح ہوجاتے ہیں۔
حدیث میں موجود نصوص کو مطلق طورپر اپنانا بحث ومباحثہ میں جانے سے کہیں بہتر ہے۔
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو خاص طور سے اسے اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت فرماتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے انہیں بھلائی کی وصیت کرتے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ” اللہ کے نام سے اس کے راستے میں جہاد کرو، جو کفر کرے اس سے لڑو، جہاد کرو، مگر مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، مثلہ ۱؎ نہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو “، حدیث میں کچھ تفصیل ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1408]
وضاحت:
1؎:
مردہ کے ناک، کان وغیرہ کاٹ کر صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔
2؎:
پوری حدیث صحیح مسلم میں مذکورہ باب میں ہے۔