حدیث نمبر: 570
حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ هَارُونَ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً ، قَالَ : اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، وَلا تَغُلُّوا ، وَلا تَغْدِرُوا ، وَلا تَجْبُنُوا ، وَلا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ، وَلا امْرَأَةً ، وَلا شَيْخًا كَبِيرًا ، وَإِذَا حَاصَرْتُمْ أَهْلَ قَرْيَةٍ أَوْ حِصْنٍ فَلا تَعْطُوهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ ، وَلَكِنْ أَعْطَوْهُمْ ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تَخْفِرُوا بِذِمَمِكُمْ وَذِمَمِ آبَائِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ أَنْ تَخْفِرُوا بِذِمَّةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، إِلا وَكِيعٌ ، بِمِصْرَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر بھیجتے تو کہتے: ”اللہ کے نام سے جنگ کرو اور اللہ کی راہ میں کرو۔ جو اللہ سے کفر کرے اس سے جنگ کرو۔ خیانت کرو نہ دھوکہ دو، اور نہ بزدل بنو، کوئی بچہ قتل کرو اور نہ کوئی عورت اور نہ بوڑھا، اور جب کسی قلعے یا بستی کو تم گھیرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کا عہد نہ دو، بلکہ ان کو اپنے اور اپنے آباء کی ذمہ داری دو، کیونکہ تم اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری کی خلاف ورزی کرو تو اس سے تمہارے اپنے اور اپنے آباء کے ذمہ کی خلاف ورزی بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الجهاد / حدیث: 570
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1731، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4739، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8532، 8627، 8712، 8731، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2612، 2613، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1408، 1617، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2483، 2486، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2858، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 13109، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23444، 23497، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1413، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 135، 1431، 3396، 4490، والطبراني فى «الصغير» برقم: 340، والبزار فى «مسنده» برقم: 4355»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1408 | سنن ترمذي: 1617 | سنن ابي داود: 2613

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1617 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جہاد کے سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی وصیت کا بیان۔`
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر پر امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اپنے نفس کے بارے میں سے اللہ سے ڈرنے اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے تھے، اس کے بعد آپ فرماتے: اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو، ان لوگوں سے جو اللہ کا انکار کرنے والے ہیں، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، عہد نہ توڑو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے جاؤ تو ان کو تین میں سے کسی ایک بات کی دعوت دو ان میں سے جسے وہ مان لیں قبول کر لو اور ان کے سات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1617]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: یعنی اگر کفار ومشرکین غیر مشروط طور پر بغیر کسی معین شرط اور پختہ عہد کے اپنے آپ کو امیر لشکر کے حوالہ کرنے پر تیار ہوں تو بہتر، ورنہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق امیر سے معاملہ کرناچاہیں تو امیر کو ایسا نہیں کرنا ہے، کیوں کہ اسے نہیں معلوم کہ اللہ نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے، یہ حدیث اصول جہاد کے بڑے معتبر اصولوں پر مشتمل ہے جو معمولی سے غور وتامل سے واضح ہوجاتے ہیں۔
حدیث میں موجود نصوص کو مطلق طورپر اپنانا بحث ومباحثہ میں جانے سے کہیں بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1617 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1408 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مردہ کے مثلے کی ممانعت کا بیان۔`
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو خاص طور سے اسے اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت فرماتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے انہیں بھلائی کی وصیت کرتے، چنانچہ آپ نے فرمایا: اللہ کے نام سے اس کے راستے میں جہاد کرو، جو کفر کرے اس سے لڑو، جہاد کرو، مگر مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، مثلہ ۱؎ نہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو ، حدیث میں کچھ تفصیل ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1408]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مردہ کے ناک، کان وغیرہ کاٹ کر صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔

2؎:
پوری حدیث صحیح مسلم میں مذکورہ باب میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1408 سے ماخوذ ہے۔