حدیث نمبر: 556
وَبِهِ وَبِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْحَرْبُ خُدْعَةٌ "ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
اسی سند سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ دھوکہ ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2833 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جنگ میں دھوکہ اور فریب کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنگ دھوکہ ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2833]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنگ دھوکہ ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2833]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جنگ کا بنیادی مقصد دشمن پر غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے اس لیے اس کی جنگی چالوں کو ناکام بنانا ضروری ہے۔
(2)
جنگ میں دھوکا دینے کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نقل وحرکت کی جائے جس سے دشمن دھوکا کھا جائےاور مسلمانوں کی فوج کے اصل مقصد کو نہ سمجھ سکے لہٰذا بروقت مسلمانوں کی چال کا توڑ نہ کرسکے۔
(3)
رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی طرف جنگی مہم روانہ کرنے کا ارادہ ہوتا تو کسی دوسری طرف کے علاقے کے بارے میں معلومات حاصل کرتے۔ (صحيح البخاري، المغازي، باب حديث كعب بن مالك، حديث: 4418)
مقصد یہ ہوتا تھا کہ بات اگر دشمن کے کسی جاسوس تک پہنچے تو وہ اس سے صحیح نتیجہ نہ نکال سکے اور اس طرح دشمن اندھیرے میں رہے۔
(4)
اس لفظ کو (خدعة)
بھی پڑھا گیا ہے یعنی جنگ دھوکا دینے والی چیز ہے۔
ہر فریق فتح کی امید رکھتے ہوئے لڑتا ہے لیکن ہر ایک کی امید پوری نہیں ہوتی۔
فوائد و مسائل:
(1)
جنگ کا بنیادی مقصد دشمن پر غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے اس لیے اس کی جنگی چالوں کو ناکام بنانا ضروری ہے۔
(2)
جنگ میں دھوکا دینے کا مطلب یہ ہے کہ ایسی نقل وحرکت کی جائے جس سے دشمن دھوکا کھا جائےاور مسلمانوں کی فوج کے اصل مقصد کو نہ سمجھ سکے لہٰذا بروقت مسلمانوں کی چال کا توڑ نہ کرسکے۔
(3)
رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی طرف جنگی مہم روانہ کرنے کا ارادہ ہوتا تو کسی دوسری طرف کے علاقے کے بارے میں معلومات حاصل کرتے۔ (صحيح البخاري، المغازي، باب حديث كعب بن مالك، حديث: 4418)
مقصد یہ ہوتا تھا کہ بات اگر دشمن کے کسی جاسوس تک پہنچے تو وہ اس سے صحیح نتیجہ نہ نکال سکے اور اس طرح دشمن اندھیرے میں رہے۔
(4)
اس لفظ کو (خدعة)
بھی پڑھا گیا ہے یعنی جنگ دھوکا دینے والی چیز ہے۔
ہر فریق فتح کی امید رکھتے ہوئے لڑتا ہے لیکن ہر ایک کی امید پوری نہیں ہوتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2833 سے ماخوذ ہے۔