حدیث نمبر: 553
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ جُنَادٍ الْحَلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَهُوَ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا ، فَقُلْتُ لَهُ : " أَيُّهَا الأَمِيرُ ، أَمَا كَانَ لَكَ مَنْ يَكْفِيكَ هَذَا ؟ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ نَقَّى لِفَرَسٍ شَعِيرًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ثُمَّ قَامَ بِهِ حَتَّى يُعَلِّقَهُ عَلَيْهِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ شَعِيرَةٍ حَسَنَةً "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، إِلا ابْنُ شَوْذَبٍ ، وَلا عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ ، إِلا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ عُبَيْدُ بْنُ جُنَادٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

روح بن زنباع کہتے ہیں: میں سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اس وقت وہ بیت المقدس کے امیر تھے اور وہ اپنے گھوڑے کے لیے توڑی اور جو کے چھلکے اتار رہے تھے۔ میں نے کہا: اے امیر صاحب! کیا تمہارا یہ کام کرنے کے لیے تمہیں کوئی آدمی نہیں مل سکا؟ تو وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو شخص اپنے گھوڑے کے لیے اللہ کی راہ میں جو کو صاف کرے، پھر اس کو تیار کر کے اس کے ساتھ لٹکا دے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر جو کے بدلے ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الجهاد / حدیث: 553
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 2791، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17229، 17230، والطبراني فى«الكبير» برقم: 1254، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1133، والطبراني فى «الصغير» برقم: 14، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2439»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2791

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2791 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے رکھنے کا ثواب۔`
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے گھوڑا باندھا، پھر دانہ چارہ اپنے ہاتھ سے کھلایا، تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2791]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
گھوڑا باندھنے کا مطلب گھوڑا پالنا اور جہاد کے لیے تیار رکھنا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2791 سے ماخوذ ہے۔