حدیث نمبر: 552
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ الْبُسْرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ، بِدِمَشْقَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيَّ ، ثُمَّ النَّهْشَلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ ، فَقَالَ : "إِنِّي أَكْرَهُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ ، إِلا الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمان ہونے سے پہلے ایک گھوڑا بطور تحفہ پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مشرکوں کے عطیات پسند نہیں کرتا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1577 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کفار و مشرکین سے ہدیہ تحفہ قبول کرنے کی کراہت کا بیان۔`
عیاض بن حمار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے (اسلام لانے سے قبل) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا تم اسلام لا چکے ہو؟ “ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” مجھے تو مشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1577]
عیاض بن حمار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے (اسلام لانے سے قبل) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا تم اسلام لا چکے ہو؟ “ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” مجھے تو مشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1577]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرکین کا ہدیہ قبول نہ کرنا ہی اصل ہے، لیکن کسی خاص یا عام مصلحت کی خاطر اسے قبول کیاجا سکتا ہے، چنانچہ بعض علماء نے قبول کرنے اور نہ کرنے کی حدیثوں کے مابین تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ جو لوگ دوستی اور موالاۃ کی خاطر ہدیہ دینا چاہتے تھے آپ نے ان کے ہدیہ کو قبول نہیں کیا اور جن کے دلوں میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کے متعلق انسیت دیکھی گئی تو ان کے ہدایا قبول کیے گئے۔
(واللہ اعلم)
وضاحت:
1؎:
اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرکین کا ہدیہ قبول نہ کرنا ہی اصل ہے، لیکن کسی خاص یا عام مصلحت کی خاطر اسے قبول کیاجا سکتا ہے، چنانچہ بعض علماء نے قبول کرنے اور نہ کرنے کی حدیثوں کے مابین تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ جو لوگ دوستی اور موالاۃ کی خاطر ہدیہ دینا چاہتے تھے آپ نے ان کے ہدیہ کو قبول نہیں کیا اور جن کے دلوں میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کے متعلق انسیت دیکھی گئی تو ان کے ہدایا قبول کیے گئے۔
(واللہ اعلم)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1577 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3057 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´امام کا کفار و مشرکین سے ہدیہ قبول کرنا۔`
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہدیہ میں دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟ “ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے مشرکوں سے تحفہ لینے کی ممانعت کر دی گئی ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3057]
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہدیہ میں دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟ “ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے مشرکوں سے تحفہ لینے کی ممانعت کر دی گئی ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3057]
فوائد ومسائل:
چونکہ ہدیہ لینا دینا دلوں میں قربت اورمحبت پیدا کرتا ہے۔
اس لئے کافروں اور مشرکوں سے آذادانہ طور پر ہدیہ کے تبادلے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
تاہم جہاں کوئی شرعی اور سیاسی مصلحت ہو تو ہدیہ لینے میں کوئ حرج نہیں۔
مثلاکوئی کافرمسلمانوں کےلئے اپنے خضوع کا اظہار کرنا چاہتا ہو یا امید ہو کہ اس کے ساتھ موانست سے وہ اسلام کے قریب ہوگا۔
یا اسلام لے آئے گا وغیرہ۔
امام بخاری نے صحیح بخاری کتاب لہبہ باب قبول الہدیہ من المشرکین اور باب الہدیۃ للمشرکین میں یہی ثابت کیا ہے۔
2۔
حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہدیہ قبول نہ کرنے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہیں اسلام لانے پر ابھارنا مقصود تھا۔
آپﷺ نے اکیدر دومہ اورنجاشی کا ہدیہ قبول کیاہے۔
کیونکہ ان کے ایمان لانے کی قوی امید تھی۔
3۔
حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعد میں اسلام قبول کرلیا۔
اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی۔
چونکہ ہدیہ لینا دینا دلوں میں قربت اورمحبت پیدا کرتا ہے۔
اس لئے کافروں اور مشرکوں سے آذادانہ طور پر ہدیہ کے تبادلے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
تاہم جہاں کوئی شرعی اور سیاسی مصلحت ہو تو ہدیہ لینے میں کوئ حرج نہیں۔
مثلاکوئی کافرمسلمانوں کےلئے اپنے خضوع کا اظہار کرنا چاہتا ہو یا امید ہو کہ اس کے ساتھ موانست سے وہ اسلام کے قریب ہوگا۔
یا اسلام لے آئے گا وغیرہ۔
امام بخاری نے صحیح بخاری کتاب لہبہ باب قبول الہدیہ من المشرکین اور باب الہدیۃ للمشرکین میں یہی ثابت کیا ہے۔
2۔
حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہدیہ قبول نہ کرنے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انہیں اسلام لانے پر ابھارنا مقصود تھا۔
آپﷺ نے اکیدر دومہ اورنجاشی کا ہدیہ قبول کیاہے۔
کیونکہ ان کے ایمان لانے کی قوی امید تھی۔
3۔
حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعد میں اسلام قبول کرلیا۔
اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3057 سے ماخوذ ہے۔