حدیث نمبر: 542
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : غَلا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " سَعِّرْ لَنَا ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ ، وَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي عَرَضٍ وَلا مَالٍ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَعْمَشِ ، إِلا عِيسَى ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَىترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھاؤ اور قیمتیں بہت بڑھ گئیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے بھاؤ مقرر فرما دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ خود بھاؤ مقرر کرنے والا ہے، وہ ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں بھی کرتا ہے اور اسے کھولتا بھی ہے، اور مجھے امید ہے کہ میں جب اللہ تعالیٰ کو ملوں گا تو کسی پر کوئی ظلم و زیادتی میرے ذمہ نہ ہو گی جو وہ اپنی عزت یا مال کے عوض مجھ سے مطالبہ کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3451 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نرخ مقرر کرنا کیسا ہے؟`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو (اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3451]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو (اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3451]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
رسول اللہ ﷺ نے قیمتوں کو مارکیٹ فورسز خصوصا رسد وطلب کے فطری توازن کے مطابق رکھنے پر زور دیا اور مہنگائی کے باوجود قیمتیں مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔
آپ کا یہ فرمان کے اللہ ہی (چیزوں کی رسد) گھٹانے بڑھانے والا ہے۔
موجودہ اکنامکس کے تصورات سے صدیوں پہلے علم کی بات ہے۔
آپ نے اس کے ذریعے معیشت کا ایک بنیادی اصول بیان فرمایا ہے۔
اور منڈی کے عوامل کے آزاد رہنے کو انصاف اور عدل قرار دیا۔
قیمتوں کے تقرر سے کسی نہ کسی کا حق ضرور مارا جاتا ہے۔
اس لئے اسے اجتناب کا حکم دیا۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے۔
کہ مہنگائی کا علاج یہ ہے۔
کہ اشیاء کی ر سد میں برکت ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا کا مفہوم یہی ہے۔
کہ وہ چیزوں کی پیدوار میں برکت عطا کرے۔
اور ضرورت پوری کرنے کا متبادل انتظام کردے۔
حکومت کو یہی کرنا چاہیے کہ وہ مہنگائی توڑنے کےلئے رسد میں اضافے کی کوش کرے۔
اور متبادل طریقے تلاش کرے۔
یہ مہنگائی کا کامیاب علاج کرے۔
جب کہ قیمتیں مقرر کرنے کے باوجود منڈی میں ان پر عمل نہیں ہوتا۔
اور چیزوں کی چور بازاری شروع ہوجاتی ہے۔
جن سے لوگوں کی ازیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
فائدہ۔
رسول اللہ ﷺ نے قیمتوں کو مارکیٹ فورسز خصوصا رسد وطلب کے فطری توازن کے مطابق رکھنے پر زور دیا اور مہنگائی کے باوجود قیمتیں مقرر کرنے سے انکار کر دیا۔
آپ کا یہ فرمان کے اللہ ہی (چیزوں کی رسد) گھٹانے بڑھانے والا ہے۔
موجودہ اکنامکس کے تصورات سے صدیوں پہلے علم کی بات ہے۔
آپ نے اس کے ذریعے معیشت کا ایک بنیادی اصول بیان فرمایا ہے۔
اور منڈی کے عوامل کے آزاد رہنے کو انصاف اور عدل قرار دیا۔
قیمتوں کے تقرر سے کسی نہ کسی کا حق ضرور مارا جاتا ہے۔
اس لئے اسے اجتناب کا حکم دیا۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے۔
کہ مہنگائی کا علاج یہ ہے۔
کہ اشیاء کی ر سد میں برکت ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا کا مفہوم یہی ہے۔
کہ وہ چیزوں کی پیدوار میں برکت عطا کرے۔
اور ضرورت پوری کرنے کا متبادل انتظام کردے۔
حکومت کو یہی کرنا چاہیے کہ وہ مہنگائی توڑنے کےلئے رسد میں اضافے کی کوش کرے۔
اور متبادل طریقے تلاش کرے۔
یہ مہنگائی کا کامیاب علاج کرے۔
جب کہ قیمتیں مقرر کرنے کے باوجود منڈی میں ان پر عمل نہیں ہوتا۔
اور چیزوں کی چور بازاری شروع ہوجاتی ہے۔
جن سے لوگوں کی ازیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3451 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 679 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´بیع کی شرائط اور بیع ممنوعہ کی اقسام`
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ منورہ میں چیزوں کا بھاؤ چڑھ گیا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اشیاء کے نرخ (بڑے) تیز ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے (ان کے) نرخ مقرر فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نرخ کا تعین کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، وہی ارزاں و سستا کرتا ہے، وہی گراں کرتا ہے اور روزی دینے والا وہی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے میں اس حال میں ملاقات کروں کہ کوئی شخص تم میں سے مجھ سے خون میں اور مال میں ظلم و ناانصافی کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔ “ نسائی کے علاوہ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 679»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ منورہ میں چیزوں کا بھاؤ چڑھ گیا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اشیاء کے نرخ (بڑے) تیز ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے (ان کے) نرخ مقرر فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نرخ کا تعین کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، وہی ارزاں و سستا کرتا ہے، وہی گراں کرتا ہے اور روزی دینے والا وہی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے میں اس حال میں ملاقات کروں کہ کوئی شخص تم میں سے مجھ سے خون میں اور مال میں ظلم و ناانصافی کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔ “ نسائی کے علاوہ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 679»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في التسعير، حديث:3451، والترمذي، البيوع، حديث:1314، وابن ماجه، التجارات، حديث:2200، وابن حبان (الإحسان):7 /215، حديث:4914.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشیاء کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ممنوع ہے۔
اس سے ایک طرف اگر تجارت پیشہ حضرات کو نقصان پہنچتا ہے تو دوسری جانب تاجروں کا اشیاء کو روک لینا قحط کا سبب بن جاتا ہے۔
عوام ضروریات زندگی کی فراہمی سے مجبور ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بلیک مارکیٹنگ کا بازار گرم ہوتا ہے۔
عوام معاشی بدحالی کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے معاشرے میں بے چینی‘ اضطراب اور بدامنی جنم لیتی ہے۔
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في التسعير، حديث:3451، والترمذي، البيوع، حديث:1314، وابن ماجه، التجارات، حديث:2200، وابن حبان (الإحسان):7 /215، حديث:4914.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشیاء کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول ممنوع ہے۔
اس سے ایک طرف اگر تجارت پیشہ حضرات کو نقصان پہنچتا ہے تو دوسری جانب تاجروں کا اشیاء کو روک لینا قحط کا سبب بن جاتا ہے۔
عوام ضروریات زندگی کی فراہمی سے مجبور ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بلیک مارکیٹنگ کا بازار گرم ہوتا ہے۔
عوام معاشی بدحالی کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے معاشرے میں بے چینی‘ اضطراب اور بدامنی جنم لیتی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 679 سے ماخوذ ہے۔