حدیث نمبر: 539
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ أَبُو صَالِحٍ الرَّاسِبِيُّ ، بِمَدِينَةِ تِنِّيسَ ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ ، وَسَاقِيَهَا ، وَعَاصِرَهَا ، وَمُعْتَصِرَهَا ، وَحَامِلَهَا ، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ ، وَبَائِعَهَا ، وَمُبْتَاعَهَا ، وَآكِلَ ثَمَنِهَا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، إِلا سَعِيدٌ الْمَدَنِيُّ ، تَفَرَّدَ بِهِ فُلَيْحٌترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے شراب کو لعنت کی، اسے پینے والے پر بھی، نچوڑنے والے پر بھی اور جس کے لیے نچوڑا جاتا ہے، اٹھانے والے پر بھی اور جس کی طرف اٹھا کر لایا جاتا ہے، اور بیچنے اور خریدنے والے پر بھی لعنت کی۔ اور اس کی قیمت کھانے والے پر بھی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3674 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی شراب بنانے کے لیے انگور نچوڑے اس پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3674]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے سب پر اللہ کی لعنت ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3674]
فوائد ومسائل:
فائدہ: باغ والے اور تاجر کو اگر معلوم ہو کہ خریدار لوگ ان انگوروں وغیرہ سے شراب بنایئں گے تو ان کو فروخت کرنا یا کسی اورطرح سے معاون بننا جائز نہیں اللہ کا فرمان ہے۔
(وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ) (المائدہ:2) ترجمہ۔
گناہ اور تعدی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ دیا کرو۔
فائدہ: باغ والے اور تاجر کو اگر معلوم ہو کہ خریدار لوگ ان انگوروں وغیرہ سے شراب بنایئں گے تو ان کو فروخت کرنا یا کسی اورطرح سے معاون بننا جائز نہیں اللہ کا فرمان ہے۔
(وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ) (المائدہ:2) ترجمہ۔
گناہ اور تعدی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ دیا کرو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3674 سے ماخوذ ہے۔