حدیث نمبر: 511
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَوْسٍ الدِّمَشْقِيُّ الإِسْكَافُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَهُوَ يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ فَهُوَ قِمَارٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ ، إِلا سَعِيدٌ ، وَلا عَنْهُ إِلا الْوَلِيدُ ، تَفَرَّدَ بِهِ هِشَامُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دو گھوڑوں میں تیسرا داخل کر دیا اور اس کو یقین ہو کہ جیت جائے گا تو وہ جوا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الطلاق / حدیث: 511
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2551، 2552، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2579، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2876، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 19830، 19831، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4195، 4835، وأحمد فى «مسنده» برقم: 10706، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5864، والبزار فى «مسنده» برقم: 7794، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34238، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 1897، 1898، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 3613، والطبراني فى «الصغير» برقم: 470»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2579 | سنن ابن ماجه: 2876 | بلوغ المرام: 1133

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2579 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´گھوڑ دوڑ میں محلل کی شرکت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2579]
فوائد ومسائل:
اس باب کی احادیث سمجھنے کے لئے چند امور معلوم ہونے چاہیں: 1۔
اگر امیر المجاہدین یا کوئی اور شخص دو شہسواروں میں دوڑ وغیرہ کا مقابلہ کرائے اور جیتنے والے کو انعام واکرام دے تو جائز ہے۔


لیکن دو افراد (یا فریق) آپس میں یہ طے کر کے مقابلہ کریں کہ ہارنے والا جیتنے والے کو اس قدر انعام دے گا تو یہ جوا ہے۔
اور ناجائز ہے۔


اگر ان دو مقابلہ کرنے والوں میں کوئی تیسرا فریق داخل ہو جائے جس کے جیتنے یا ہارنے کا کوئی یقین نہ ہو بلکہ ان کے ہم پلہ ہونے کی بناء پر کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہو کہ اس کے جیت جانے پر وہ دونوں اس کو انعام دیں او ر ہار جانے پر اس پر کچھ بھی لازم نہ آتا ہو تو یہ صورت جائز ہے۔
چونکہ اس کا ان دو میں داخل ہوجانا ان کے انعام لین دینے کو جائز بنا دیتا ہے، اس وجہ سے اسے محلل کہا جاتا ہے۔
محلل یعنی (جوئے سے) حلال کرنے والا۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2579 سے ماخوذ ہے۔