حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْحَكَمِ الضَّبِّيُّ الْخَيَّاطُ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ قَرَافِصَةَ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَبَعَثَ فِيهِمْ ذَلِكَ الرَّجُلَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْقَوْمُ تَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ قَائِمَةً عَلَى بَابِهَا ، فَدَخَلَتْهُ غَيْرَةً ، فَهَيَّأَ الرُّمْحَ لِيَطْعَنَهَا بِهِ ، فَقَالَتْ : " لا تَعْجَلْ وَانْظُرْ مَا فِي الْبَيْتِ ، فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهَا فَطَعَنَ الْحَيَّةَ ، فَمَاتَتْ ، وَمَاتَ الرَّجُلُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ مِنَ الْجِنِّ ، وَنَهَى عَنْ قَ1تْلِ الْجِنَّانِ "، لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا التَّمَامِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِلا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ مُخْتَصَرًاسیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک آدمی کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا جس میں یہ شخص بھی تھا، جب لوگ واپس آئے تو اس شخص نے اپنے گھر کی طرف جلد آنے کی کوشش کی تو ناگہان اس نے اپنی بیوی کو دروازے پر کھڑی دیکھ لیا، اسے غیرت آئی تو اس نے نیزہ مارنا چاہا، وہ کہنے لگی: جلدی نہ کرو، پہلے گھر کے اندر جا کر دیکھ لو کہ اندر کیا ہے؟ وہ اندر گیا تو اسے بستر پر ایک لیٹا ہوا سانپ نظر آیا، تو اس نے اس کو وہ نیزہ مارا جس سے وہ مر گیا، مگر وہ آدمی خود بھی مر گیا۔ جب یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”ان گھروں میں کوئی جن آباد ہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
فرمان نبوی سے وہی سانپ مراد ہیں۔
ابو لبابہ بدری صحابی کا ذکر مقصود ہے۔
1۔
حضرت ابو البابہ بشیر بن عبدالمنذر بدری صحابی ہیں۔
یہ کسی وجہ سے بدر کی لڑائی میں براہ راست شریک نہیں ہو سکے تھے البتہ رسول اللہﷺ نے انھیں مال غنیمت اور اس کے اجرو ثواب میں شریک قراردیا تھا۔
(فتح الباري: 400/7)
2۔
عام طور پر سفیداور پتلے سانپ گھروں میں بر آمد ہوتے ہیں اور جن ان کی شکل و صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
اس لیے رسول اللہﷺ نے انھیں مارنے سے منع فرمایا: (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5256)
3۔
بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تین دن تک انھیں وارننگ دی جائے اگر نہ جائیں تو انھیں مارنے کی اجازت ہے۔
واللہ اعلم۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سانپوں کو مارو، خاص طور سے اس سانپ کو مارو جس کی پیٹھ پہ دو (کالی) لکیریں ہوتی ہیں اور اس سانپ کو جس کی دم چھوٹی ہوتی ہے اس لیے کہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1483]
وضاحت:
1؎:
یعنی ان دونوں میں ایسا زہر ہوتا ہے کہ انہیں دیکھنے والا نابینا ہوجاتا ہے اور حاملہ کا حمل گر جاتا ہے۔
2؎:
یہ ممانعت اس لیے ہے کہ یہ جن وشیاطین بھی ہوسکتے ہیں، انہیں مارنے سے پہلے وہاں سے غائب ہوجانے یا اپنی شکل تبدیل کرلینے کی تین بارآگاہی دے دینی چاہئے، اگروہ وہاں سے غائب نہ ہو پائیں یا اپنی شکل نہ بدلیں تووہ ابوسعید خدری سے مروی حدیث کی روشنی میں انہیں مار سکتے ہیں۔
3؎:
زید بن خطاب عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہما) کے بڑے بھائی ہیں، یہ عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لائے، بدر اور دیگر غزوات میں شریک رہے، ان سے صرف ایک حدیث گھروں میں ر ہنے والے سانپوں کو نہ مارنے سے متعلق آئی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3535]
فوائد ومسائل: (1)
لکیروں والے سانپ سے مراد ایک خاص قسم کا سانپ ہے جس کی پیٹھ پر دو لکیریں ہوتی ہیں۔
(2)
دم کٹے سانپ سے مراد وہ سانپ ہے جس کی دم دوسرے سانپوں کی طرح مخروطی نہیں ہوتی بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے۔
جیسے دم کاٹ دی گئی ہو۔
(3)
یہ سانپ زیادہ زہریلے ہوتے ہیں۔
ان کے کاٹنے سے آدمی کی بینائی ختم ہوسکتی ہے۔
اور عورت کا حمل ساقط ہوسکتا ہے۔
(4)
سانپ کی بہت سی قسمیں زہریلی نہیں ہوتیں انہیں مارنا ضروری نہیں۔
(5)
گھر میں سانپ نظر آئے تو اسے تنبیہ کرنی چاہیے۔
کہ چلا جا ورنہ ہم تجھے مار دیں گے۔ (صحیح مسلم، السلام، باب قتل الحیات وغیرھا، حدیث: 2236)
اگر وہ جن ہوگا توچلا جائےگا۔
ورنہ اسے ماردیا جائے۔
(6)
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے۔ (حرجواعلیھا ثلاثا)
(حوالہ مذکورہ بالا)
اس کی تشریح دوطرح سے کی گئی ہے۔
ایک یہ کہ اسے تین بار تنبیہ کرو۔
اگر اس کے بعد بھی نظر آئے تو ماردو۔ (فتح الباری: 6/ 420)