حدیث نمبر: 496
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَوْجَرِيُّ الصَّنْعَانِيُّ فِي كِتَابِهِ إِلَيْنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، رَدَّ نِكَاحَ بِكْرٍ وَثَيِّبٍ أَنْكَحَهُمَا أَبَوَاهُمَا وَهُمَا كَارِهَتَانِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الثَّوْرِيِّ ، إِلا الذِّمَارِيُّ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنواری اور ایک بیوہ کا نکاح واپس کر دیا جن کا ان کے باپ نے ان کی رضامندی کے بغیر نکاح کر دیا تھا۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب النكاح / حدیث: 496
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، أخرجه والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5366، 5368، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2096، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1875، 1875 م، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 13786، 13788، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3563، 3564 ¤ قال الدارقطنی: تفرد به عبد الملك الدماري وفيه ضعف والصواب عن يحيى بن أبي كثير عن المهاجر بن عكرمة مرسل ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 101)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2096 | سنن ابن ماجه: 1875 | سنن نسائي: 2826 | بلوغ المرام: 841

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 841 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(نکاح کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے بتایا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے جب کہ اسے ناپسند تھا (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو مرسل ہونے کی بنا پر معلول کہا گیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 841»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، حديث:2096، وابن ماجه، النكاح، حديث:1875، وأحمد:1 /273.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ اگرچہ ولی ہے لیکن اگر وہ لڑ کی کے اذن اور مشورے کے بغیر اس کا نکاح کرتا ہے تو لڑکی کو شرعاً اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ اس نکاح سے ناخوش ہے تو اسے فسخ کر دے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 841 سے ماخوذ ہے۔