حدیث نمبر: 489
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى ، عَنْ أَدْهَمَ بْنِ طَرِيفٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، حَدَّثَتْنَا أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : " زَفَفْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ نِسَائِهِ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ أَخْرَجَ عُسًّا مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ امْرَأَتَهُ ، فَقَالَتْ : لا أَشْتَهِيهِ ، فَقَالَ : لا تَجْمَعِي جُوعًا وَكَذِبًا ، ثُمَّ نَاوَلَنِي الْقَدَحَ ، فَجَعَلْتُ أُدِيرُ الْقَدَحَ فِي فَمِي ، وَمَا أَشْرَبُهُ إِلا لِتُصِيبَ شَفَتَيَّ أَثَرَ شَفَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تَرَكَنَا وَامْرَأَتَهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَدْهَمَ ، إِلا أَبُو لَيْلَى ، وَلا يُرْوَى عَنْ أَسْمَاءَ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الصَّمَدِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان کی کوئی بیوی بنا سنوار کر شادی کے بعد بھیجی، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دودھ کا گلاس نکالا اور اس سے پیا، پھر اپنی بیوی کو دیا، اس نے کہا: میں نہیں چاہتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک اور جھوٹ دونوں کو اکٹھا نہ کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ مجھے دے دیا اپنے پینے کے بعد، میں نے اسے سب کے پاس گھمایا اور میں نے اپنے ہونٹوں سے اس لیے لگایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹوں سے اثرات مجھ تک پہنچیں، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کی بیوی کو چھوڑ کر واپس آگئیں۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب النكاح / حدیث: 489
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف وله شاهد من حديث أسماء
تخریج حدیث «إسناده ضعيف وله شاهد من حديث أسماء ، وأخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 28116، والطبراني فى«الكبير» برقم: 400، والطبراني فى «الصغير» برقم: 710، وله شاهد من حديث أسماء بنت يزيد بن السكن الأوسية أخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 3298، قال الشيخ الألباني: إسناده حسن ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 28208، 28215، 28239، 28246، والطبراني فى«الكبير» برقم: 63، 434، 435، والحميدي فى «مسنده» برقم: 371
قال الھیثمی: في إسناده أبو شداد عن مجاهد قال في الميزان لم يرو عنه سوى ابن جريج قلت قد روى عنه يونس بن يزيد الأيلي في هذا الحديث في المسند فارتفعت الجهالة ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (1 / 142)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3298 | مسند الحميدي: 372

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3298 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کھانا پیش کیے جانے کا بیان۔`
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کھانے کو کہا، ہم نے عرض کیا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3298]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھاتے وقت موجود افراد کو کھانے کی پیش کش کرنا اچھی عادت ہے۔

(2)
کھانے کی پیش کش کی جائے تو بھوک ہونے پر قبول کرنے میں تکلف نہیں کرنا چاہیے۔

(3)
بھوک نہ ہو توایسی پیش کش قبول نہ کرنے میں حرج نہیں۔
شکریہ ادا کرنا چاہیے تاہم بہتر ہے کہ ایک دولقمے لے لیے جائیں۔

(4)
جھوٹ تکلف کے موقع پر بھی اچھا نہیں۔
معذرت کے لیے کوئی اور مناسب انداز اختیار کر لیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3298 سے ماخوذ ہے۔