مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 488
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلا الْمُجَاهِرِينَ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنِ الْمُجَاهِرُونَ ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَعْمَلُ الْعَمَلَ بِاللَّيْلِ فَيَسْتُرُهُ رَبُّهُ ، ثُمَّ يُصْبِحُ ، فَيَقُولُ : يَا فُلانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَيَكْشِفُ سَتْرَ اللَّهِ عَنْهُ "، لا يُرْوَى عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ الْحُلْوَانِيُّ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری ساری امت کو عافیت مل جائے گی، مگر جو لوگ اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔“ کہا گیا: یا رسول اللہ! اعلانیہ گناہ کرنے والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رات کو کوئی برا کام کرتے ہیں تو اللہ ان پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ پھر صبح کرتے ہیں تو کہتے ہیں: اے فلاں آدمی! میں نے آج رات فلاں فلاں گناہ کیے ہیں، تو اللہ ان کا پردہ کھول دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب النكاح / حدیث: 488
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولکن حديث صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6069 | صحيح مسلم: 2990

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6069 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6069. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: میری تمام امت کو معاف کر دیا جائے گا مگر جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔ علانیہ گناہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے لیکن صبح ہوتے ہی وہ کہنے لگتا ہے: اے فلاں! میں نے رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپا رکھا تھا جب صبح ہوئی تو وہ خود پر دیےگئے اللہ کے پردے کھو لنے لگا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6069]
حدیث حاشیہ:
(1)
اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت "سِتير'' بھی ہے کہ وہ پردہ پوشی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ دنیا میں بندے کے بہت سے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی وہ اپنے بندوں کو ذلیل ورسوا نہیں کرے گا لیکن کچھ آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ خود اپنی پردہ دری کرتے ہیں، وہ چوری پھر سینہ زوری کرتے ہوئے اپنے گناہوں کا چرچا کرتے ہیں کہ ہم نے آج رات فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔
یہ تو بے حیائی اور بے باکی ہے جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا۔
(2)
اللہ تعالیٰ بندے کے گناہ پر پردہ اسی صورت میں ڈالتا ہے کہ بندہ اپنے گناہ پر خود بھی پردہ ڈالنے والا ہو۔
اس کے برعکس جو انسان اپنے گناہوں کا چرچا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ بھی اس کے گناہوں پر پردہ نہیں ڈالے گا۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اور لوگوں سے حیا کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی تشہیر نہ کرے تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے پناہ میں رکھے اور اسے ذلیل وخوار نہ کرے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6069 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2990 کی شرح از صحیح مسلم شرح نووی ✍️
´پوشیدہ گناہوں کو لوگوں پر ظاہر کرنا ایسا سخت گناہ کبیرہ ہے`
«. . . سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كُلُّ أُمَّتِي مُعَافَاةٌ إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الْعَبْدُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحُ قَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ، فَيَقُولُ يَا فُلَانُ: قَدْ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، فَيَبِيتُ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میری تمام امت کے گناہ بخشے جائیں گے مگر ان لوگوں کے جو اپنے گناہوں کو فاش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آدمی رات کو ایک گناہ کا کام کرے، پھر صبح ہو اور پروردگار نے اس کا گناہ پوشیدہ رکھا ہو وہ دوسرے سے کہے: اے فلانے! میں نے گزشتہ رات کو ایسا ایسا کام کیا، رات کو تو پروردگار نے اس کو چھپایا اور رات بھر چھپاتا رہا، صبح کو اس نے پردہ کھول دیا . . . [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ: 7485]
تشریح:
پوشیدہ گناہوں کو لوگوں پر ظاہر کرنا ایسا سخت گناہ کبیرہ ہے کہ معاف نہ ہو گا اس واسطے کہ اس میں گناہ پر جرات اور بےپروا ہی ثابت ہوتی ہے اور صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ظاہر کرنے والا اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور یہ جو بعض نادان کہتے ہیں کہ صاحب جس کا اللہ سے پردہ نہیں اس کا آدمی سے پردہ کرنا کیا ضروری ہے؟ سو غلط سمجھے ہیں کہ اگر وہ شرماتا اور ظاہر نہ کرتا البتہ اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرتا اور جب کہ اس نے بےحیا بن کر خود اپنا پردہ فاش کیا تو مغفرت اور پردہ پوشی کے لائق نہ رہا اور حدیث میں آیا ہے کہ پوشیدہ گناہ کی پوشیدہ توبہ کرے اور ظاہر گناہ کی ظاہر ہو کر توبہ کرے تاکہ نیک لوگ خوش ہو کر اس کی توبہ کے گواہ ہوں یا اور گناہ گار اس کو دیکھ کر توبہ پر مستعد ہوں۔ [تحفته الاخيار]
درج بالا اقتباس مختصر شرح نووی، حدیث/صفحہ نمبر: 2990 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2990 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا،میری تمام امت کومعافی ملے گی۔سوائے ان لوگوں کے جو (اپنے گناہوں کا)اعلان کرنے والے ہیں۔ اعلان میں یہ ہے کہ بندہ رات کو ایک کام کرے پھر صبح ہو تو اللہ نے اس کا پردہرکھا ہوا ہو اور وہ خود کہے اے فلاں!میں نے پچھلی رات ایسا ایساکام کیا حالانکہ اس نے رات گزاردی اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالے رکھا اور وہ صبح کرتا ہے تو وہ اپنے رب کا ڈالا ہوا پردہ خود... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7485]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتاہےجو انسان چھپ کر اور پوشیدہ طور پر گناہ کرتا ہے اس کے اندر شرم و حیاء باقی ہے اور وہ اس کام کو برا ہی سمجھتا ہے، اس لیے وہ اس کام سے باز آسکتا ہے، توبہ کرسکتا ہے لیکن جو انسان کسی گناہ کا اعلانیہ طور پر ارتکاب کرتاہے، اس کا معنی یہ ہے، وہ شرم و حیا سے عاری ہے اور گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھتا، بلکہ ڈھٹائی سے کام لےکر اس کو یوں کرتا ہے کہ یہ بھی اچھا کام ہے، یا دوسروں کی غیرت کو للکارتا ہے، یا ان کے جذبات کا خون کرتا ہے، اس لیے اس کام سے باز آنا یا توبہ کرناممکن نہیں رہتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2990 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔