حدیث نمبر: 476
حَدَّثَنَا كَنِيزٌ الْخَادِمُ الْمُعَدِّلُ الْفَقِيهُ مَوْلَى أَحْمَدَ بْنِ طُولُونَ ، بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، إِلا بِشْرٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول اور جس پر وہ مجبور کیے جائیں، معاف کر دیا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب النكاح / حدیث: 476
درجۂ حدیث محدثین: حدیث صحیح
تخریج حدیث «حدیث صحیح ، أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7219، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2817، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2045، قال الشيخ الألباني: صحيح ، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15198، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4351، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4649، والطبراني فى«الكبير» برقم: 11274، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2137، 8273، 8275، والطبراني فى «الصغير» برقم: 765 ¤قال الزیلعی: أصح طرقه حديث ابن عباس ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 223)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2045 | بلوغ المرام: 922

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 922 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´طلاق کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس پر اسے مجبور کیا گیا ہو معاف فرما دیا ہے۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 922»
تخریج:
«أجرجه ابن ماجه، الطلاق، باب طلاق المكره والناسي، حديث:2045، والحاكم:2 /198، وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي، وسنده صحيح، وللحديث شواهد كثيرة.»
تشریح: یہ اور سابقہ‘ دونوں احادیث اس لیے بیان کی گئی ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ایسی صورت میں شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو ڈرا دھمکا کر یا کسی بھی اور طریقے سے مجبور کر کے اس سے طلاق لے لی جائے تو شریعت کی رو سے وہ طلاق قطعاً واقع نہیں ہو گی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 922 سے ماخوذ ہے۔