حدیث نمبر: 469
حَدَّثَنَا سَعْدُونَ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْعَكَّاوِيُّ ، بِمَدِينَةِ عَكَّا ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو مُعَاوِيَةَ النَّحْوِيُّ ، عَنْ فِرَاسِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ فِرَاسٍ ، إِلا شَيْبَانُ . تَفَرَّدَ بِهِ سُهَيْلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذبیحہ کے پیٹ کے جنین کو ذبح کرنے کے بجائے اس کی ماں کا ذبح کرنا ہی کافی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1476 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ماں کے پیٹ میں موجود بچہ کے ذبیحہ کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنین ۱؎ کی ماں کا ذبح ہی جنین کے ذبح کے لیے کافی ہے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1476]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنین ۱؎ کی ماں کا ذبح ہی جنین کے ذبح کے لیے کافی ہے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1476]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بچہ جب تک ماں کی پیٹ میں ر ہے اسے ’’جنین‘‘ کہاجاتا ہے۔
2؎:
یعنی جب کسی جانور کو ذبح کیا جائے پھر اس کے پیٹ سے بچہ (مردہ) نکلے تو اس بچے کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ بچہ مادہ جانور کے جسم کا ایک حصہ ہے، لہٰذا اسے ذبح نہیں کیا جائے گا، البتہ زندہ نکلنے کی صورت میں وہ بچہ ذبح کے بعد ہی حلال ہوگا۔
نوٹ:
(متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’مجالد‘‘ ضعیف ہیں، دیکھئے: الارواء رقم: 2539)
وضاحت:
1؎:
بچہ جب تک ماں کی پیٹ میں ر ہے اسے ’’جنین‘‘ کہاجاتا ہے۔
2؎:
یعنی جب کسی جانور کو ذبح کیا جائے پھر اس کے پیٹ سے بچہ (مردہ) نکلے تو اس بچے کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ بچہ مادہ جانور کے جسم کا ایک حصہ ہے، لہٰذا اسے ذبح نہیں کیا جائے گا، البتہ زندہ نکلنے کی صورت میں وہ بچہ ذبح کے بعد ہی حلال ہوگا۔
نوٹ:
(متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’مجالد‘‘ ضعیف ہیں، دیکھئے: الارواء رقم: 2539)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1476 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3199 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ماں کو ذبح کرنا اس کے پیٹ کے بچے کو ذبح کرنا ہے۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین (ماں کے پیٹ کے بچے) کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اگر چاہو تو کھاؤ، کیونکہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہو جاتا ہے “ ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے کوسج اسحاق بن منصور کو لوگوں کے قول «الذكاة لا يقضى بها مذمة» کے سلسلے میں کہتے سنا: «مذمۃ» ذال کے کسرے سے ہو تو «ذمام» سے مشتق ہے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو «ذمّ» سے مشتق ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3199]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین (ماں کے پیٹ کے بچے) کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اگر چاہو تو کھاؤ، کیونکہ اس کی ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی ذبح ہو جاتا ہے “ ۱؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے کوسج اسحاق بن منصور کو لوگوں کے قول «الذكاة لا يقضى بها مذمة» کے سلسلے میں کہتے سنا: «مذمۃ» ذال کے کسرے سے ہو تو «ذمام» سے مشتق ہے اور ذال کے فتحہ کے ساتھ ہو تو «ذمّ» سے مشتق ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3199]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
۔
پیدائش سے پہلے بچے کی زندگی اور موت ماں کی زندگی اور موت کے تابع ہوتی ہےاس لیے ماں کو ذبح کرنا گویا بچے کو ذبح کرنا ہے۔
(2)
بعض علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اس بچے کو بھی اس کی ماں کی طرح ذبح کیا جائے لیکن اس قول پر دل مطمئن نہیں ہوتا کیونکہ اگر بچہ ذندہ برآمد ہوتو اس کے بارے میں شک نہیں ہوسکتا کہ اسے ذبح کرنا ہی چاہیے۔
شک تو اس صورت میں ہوسکتا ہےکہ ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی جان دے دے۔
اسی کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھانے کی اجازت دے دی۔
والله اعلم
فوائد و مسائل:
(1)
۔
پیدائش سے پہلے بچے کی زندگی اور موت ماں کی زندگی اور موت کے تابع ہوتی ہےاس لیے ماں کو ذبح کرنا گویا بچے کو ذبح کرنا ہے۔
(2)
بعض علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اس بچے کو بھی اس کی ماں کی طرح ذبح کیا جائے لیکن اس قول پر دل مطمئن نہیں ہوتا کیونکہ اگر بچہ ذندہ برآمد ہوتو اس کے بارے میں شک نہیں ہوسکتا کہ اسے ذبح کرنا ہی چاہیے۔
شک تو اس صورت میں ہوسکتا ہےکہ ماں کے ذبح کرنے سے وہ بھی جان دے دے۔
اسی کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھانے کی اجازت دے دی۔
والله اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3199 سے ماخوذ ہے۔