حدیث نمبر: 458
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ نُمَيْرٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، "الْعُمْرَةُ وَاجِبَةٌ فَرِيضَتُهَا كَفَرِيضَةِ الْحَجِّ ؟ ، فَقَالَ : وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ "، عُبَيْدُ اللَّهِ ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ هَذَا الْحَدِيثَ ، هُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْمِصْرِيُّ ، وَلَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، إِلا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، مِنْ حَدِيثِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَاهُ مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! عمرہ واجب ہے اس کا فریضہ حج کی طرح ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم عمرہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الحج و العمرة / حدیث: 458
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 3068، والترمذي فى «جامعه» برقم: 931، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 8842، 8843، 8844، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2724، 2725، 2726، 2727، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14621، 15074، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1938، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13826، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 6572، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1015 ¤ «قال الهيثمي: هذا الحديث رواه حجاج بن أرطاة مرفوعا والمحفوظ إنما هو عن جابر موقوف عليه غير مرفوع قال وروي عن جابر مرفوعا خلاف ذلك قال وكلاهما ضعيف ، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 6 / 62 »»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 931 | بلوغ المرام: 581

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 931 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کیا عمرہ واجب ہے یا واجب نہیں ہے؟`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرے کے بارے میں پوچھا گیا: کیا یہ واجب ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن عمرہ کرنا بہتر ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 931]
اردو حاشہ: 1؎: اس سے حنفیہ اورمالکیہ نے اس با ت پر استدلال کیا ہے کہ عمرہ واجب نہیں ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے لائق استدلال نہیں۔
نوٹ:

(سند حجاج بن ارطاۃ کثیرالارسال والتدلیس ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 931 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 581 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´حج کی فضیلت و فرضیت کا بیان`
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بدوی حاضر ہوا تو اس نے کہا، اے اللہ کے رسول! مجھے عمرہ کے بارے بتلائیے کہ کیا یہ واجب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اگر تو عمرہ کرے تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اسے احمد و ترمذی نے روایت کیا ہے اور اس کا موقوف ہونا راجح ہے اور امام ابن عدی نے ایک اور ضعیف سند سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 581]
581 لغوی تشریح:
«وَالرَّاجِحُ وَقْفُهُ» راجح بات یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے اور یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ انہی سے ایک بدو نے سوال کیا اور انہوں نے اسے یہ جواب دیا۔ اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ [سبل السلام]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت راوی کا وہم ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی سند بھی ضعیف اور ناقابل استدلال ہے جس کی تفصیل تحفتہ الاحوذی (ج2، ص113) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
«مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضِعِفٍ» ایک اور ضعیف سند سے مروی ہے کیونکہ وہ عبداللہ بن لہیعہ عن عطاء عن جابر کی سند سے مروی ہے، اور ابن لہیعہ اس میں کمزور ہے۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ عطاء سے غیر محفوظ ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہی روایت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کی ہے مگر اس میں اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف ہے اور ابن سیرین کا حضرت زید رضی اللہ عنہ سے سماع بھی نہیں ہے۔ اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے ایک اور سند سے ابن سیرین سے موقوف روایت کیا ہے اس کی سند پہلی سے زیادہ صحیح ہے۔ [سبل السلام]
عمرے کے متعلق دلائل کے اختلاف کی وجہ سے اس کے وجوب اور عدم وجوب کے بارے میں اختلاف ہے۔ راجح بات یہی ہے کہ یہ واجب ہے۔ حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم، امام شافعی، امام احمد اور امام بخاری رحمها اللہ وغیرہ اس کے قائل ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 581 سے ماخوذ ہے۔