حدیث نمبر: 433
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْبَصْرِيُّ الْقَاضِي ، بِطَبَرِيَةَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَنْبَأَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ بَابِ الصَّفَا ، فَارْتَقَى الصَّفَا ، فَقَالَ : نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ ، ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ ، إِلا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُهُ نَصْرٌ ، وَلَمْ نَكْتُبْهُ إِلا عَنْ هَذَا الشَّيْخِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں آئے تو بیت اللہ شریف کا طواف سات مرتبہ کیا۔ پھر باب صفا سے نکل کر صفا پہاڑی پر چڑھے اور کہا: ”ہم وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے اللہ نے شروع کیا۔“ پھر یہ آیت پڑھی: ”﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾“ (البقرہ: 158) ”بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2972 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صفا و مروہ کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ مسجد (خانہ کعبہ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: " ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2972]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ مسجد (خانہ کعبہ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: " ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2972]
اردو حاشہ: اس وقت صفا مروہ مسجد سے باہر تھے۔ آج کل تو مسجد کی حدود کے اندر بلکہ بہت اندر آچکے ہیں۔ (باقی تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2964)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2972 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2973 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صفا و مروہ کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: " ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2973]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: " ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی۔" [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2973]
اردو حاشہ: صفا سے سعی کی ابتدا متفق علیہ مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2973 سے ماخوذ ہے۔