حدیث نمبر: 431
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : "كَانَتْ مُتْعَةُ الْحَجِّ لَنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هَدِيَّةَ ، إِلا أَبُو هَمَّامٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ .ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حج کا متعہ ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1807 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی حج کا احرام باندھے پھر اسے عمرہ میں بدل دے اس کے حکم کا بیان۔`
سلیم بن اسود سے روایت ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جو حج کی نیت کرے پھر اسے عمرے سے فسخ کر دے کہا کرتے تھے: یہ صرف اسی قافلہ کے لیے (مخصوص) تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1807]
سلیم بن اسود سے روایت ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جو حج کی نیت کرے پھر اسے عمرے سے فسخ کر دے کہا کرتے تھے: یہ صرف اسی قافلہ کے لیے (مخصوص) تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1807]
1807. اردو حاشیہ: یہ حضرت ابوذر کا خیال تھا ورنہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ انسان پہلے حج کی نیت سے احرام باندھے اور پھر اسے عمرے میں تبدیل کر لے۔ صحابہ کی ایک کثیر تعداد اس کی قائل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1807 سے ماخوذ ہے۔