حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرْقِيُّ بْنُ الْقَطَامِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا طَلْقٍ الْعَائِذِيَّ ، يُحَدِّثُ شُرَحْبِيلَ بْنَ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الزُّبَيْدِيِّ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا مِنْ قَرْنٍ وَنَحْنُ إِذَا حَجَجْنَا قُلْنَا : لَبَّيْكَ تَعْظِيمًا إِلَيْكَ عُذْرًا هَذِي زُبَيْدٌ قَدْ أَتَتْكَ قَسْرًا يَقْطَعْنَ خَبْتًا وَجِبَالا وَعْرًا قَدْ جَعَلُوا الأَنْدَادَ خَلُّوا صِفْرًا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وُقُوفًا بِبَطْنِ مُحَسِّرٍ نَخَافُ أَنْ يَتَخَطَّفَنَا الْجِنَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "فِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ ، فَإِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ إِذَا أَسْلَمُوا ، وَعَلَّمَنَا التَّلْبِيَةَ : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لا شَرِيكَ لَكَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شَرَفِيٍّ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍسیدنا عمرو بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قریب ہی کے زمانے سے ہم نے آپ کو دیکھا ہے، اور جب ہم حج کرتے تو کہتے تھے: ”﴿لَبَّيْكَ تَعْظِيْمًا إِلَيْكَ عُذْرًا﴾“ ”﴿هَذِيْ زُبَيْدٌ قَدْ أَتَتْكَ قَسْرًا﴾“ ”﴿يَقْطَعْنَ خَبْتًا وَجِبَالًا وَعَرًا﴾“ ”﴿قَدْ جَعَلُوا الْأَنْدَادَ خَلُّوا صِفْرًا﴾“ ”ہم تعظیم سے حاضر ہیں اور تیری طرف معذرت کرتے ہیں، یہ زبید ہے اور تیری طرف غلبے سے آتی ہے۔ یہ طے کرتی ہے پست زمینیں اور سخت پہاڑ بھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دیکھا کہ ہم بطن محسر میں کھڑے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ جن ہمیں اچک کر لے نہ جائیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بطن عرنہ سے ہٹ جاؤ کیونکہ یہاں تمہارے بھائی ہیں، جبکہ وہ مسلمان ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو یہ تلبیہ سکھایا: ﴿لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ﴾“۔