حدیث نمبر: 422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ السُّلَمِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلالِ بْنِ حِقٍّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذَمِيِّ ، عَنِ الْجَارُودِ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ ، فَتَذَاكَرْنَا مَا يَكْفِينَا مِنَ الظَّهْرِ ، فَقُلْتُ : ذَوْدٌ نَأْتِي عَلَيْهِنَّ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَنَسْتَمْتِعُ بِظُهُورِهِنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ "ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا جارود عبدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور سواریاں کم تھیں تو ہم نے ذکر کیا جو ہمیں سواریوں سے کافی ہوں تو میں نے کہا: رات کو اونٹوں کے پاس چلے جائیں، پھر ان سے سواری کا فائدہ اٹھا لیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کی گم شدہ چیز جہنم کی آگ ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2502 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´گم شدہ اونٹ، گائے اور بکری کے لقطہٰ کا بیان۔`
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا شعلہ ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2502]
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا شعلہ ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2502]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
«ضالة» سےمراد وہ جانور ہے جو اپنے ریوڑ سے الگ ہو کر گم ہوگیا اورمعلوم نہ ہو کہ کس کا ہے۔
اس پر قبضہ کرنا جائز نہیں۔
(2)
بے جان چیز (مثلاً: رقم وغیرہ)
گری پڑی مل جائے تو اسے (لقطة)
کہتےہیں۔
اس کا بیان اگلے باب میں آرہا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
«ضالة» سےمراد وہ جانور ہے جو اپنے ریوڑ سے الگ ہو کر گم ہوگیا اورمعلوم نہ ہو کہ کس کا ہے۔
اس پر قبضہ کرنا جائز نہیں۔
(2)
بے جان چیز (مثلاً: رقم وغیرہ)
گری پڑی مل جائے تو اسے (لقطة)
کہتےہیں۔
اس کا بیان اگلے باب میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2502 سے ماخوذ ہے۔