حدیث نمبر: 420
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدِ بْنِ دِرْهَمٍ الْقَاضِي ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "ذَكَرَ الْغُلُولَ ، فَقَالَ : لِيَحْذَرْ أَحَدُكُمْ أَنْ يَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ عَلَى عُنُقِهِ لَهُ رُغَاءٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ ، إِلا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص اس بات سے ڈرے کہ وہ قیامت کو آئے تو اس کی گردن پر اونٹ ہو جو آواز کر رہا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3073 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3073. حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے خطاب کرتے ہوئے خیانت کا ذکر فرمایا: ’’قیامت کے دن میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری ممیارہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو۔ اوروہ چلا رہا ہو۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ!میری مدد فرمائیے۔ میں اسے جواب دوں کہ تیرے لیے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ میں نے تجھے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ اس کی گردن پر اونٹ بلبلا رہا ہو اور وہ کہے: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! میری مدد فرمائیں، اور میں جواب دوں کہ میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میں نے تو اللہ کا حکم تمھیں پہنچا دیا تھا۔ یا اس کی گردن پر سونے چاندی کے ٹکڑے لادے ہوئے ہوں اور وہ مجھ سے کہے۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ! میری مدد فرمائیے اور میں اسے کہہ دوں کہ میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میں نے تو اللہ کا پیغام پہنچادیا تھا۔ یا اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3073]
حدیث حاشیہ: فتح اسلام کے بعد میدان جنگ میں جو بھی اموال ملیں وہ سب مال غنیمت کہلاتا ہے۔
اسے باضابطہ امیر اسلام کے ہاں جمع کرنا ہو گا۔
بعد میں شرعی تقسیم کے تحت وہ مال دیا جائے گا۔
اس میں خیانت کرنے والا عنداللہ بہت بڑا مجرم ہے جیسا کہ حدیث ہذا میں بیان ہوا ہے۔
بکری‘ گھوڑا‘ اونٹ یہ سب چیزیں تمثیل کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔
روایت میں اموال غنیمت میں سے ایک چادر کے چرانے والے کو بھی دوزخی کہا گیا ہے۔
چنانچہ وہ حدیث آگے مذکور ہے۔
قال المھلب ھذا الحدیث وعید لمن أنفذہ اللہ علیه من أهل المعاصي ویحتمل أن یکون الحمل المذکور لا بد منه عقوبة له بذالك لیفتضح علی رؤوس الأشهاد و أما بعد ذلك فإلی اللہ الأمر في تعذیبه أو العفو عنه وقال غیره هذا الحدیث یفسر قوله عز و جل﴿یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ﴾ أي یأت به حاملا له علی رقبته (فتح)
یعنی اس حدیث میں وعید ہے اہل معاصی کے لئے۔
احتمال ہے کہ یہ اٹھانا بطور عذاب اس کے لئے ضروری ہو‘ تاکہ وہ سب کے سامنے ذلیل ہو‘ بعد میں اللہ کو اختیار ہے چاہے اسے عذاب کرے‘ چاہے معاف کرے۔
یہ حدیث آیت کریمہ ﴿یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ﴾ (آل عمران: 161)
کی تفسیر بھی ہے کہ وہ عاصی اس خیانت کو قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا۔
اسے باضابطہ امیر اسلام کے ہاں جمع کرنا ہو گا۔
بعد میں شرعی تقسیم کے تحت وہ مال دیا جائے گا۔
اس میں خیانت کرنے والا عنداللہ بہت بڑا مجرم ہے جیسا کہ حدیث ہذا میں بیان ہوا ہے۔
بکری‘ گھوڑا‘ اونٹ یہ سب چیزیں تمثیل کے طور پر بیان کی گئی ہیں۔
روایت میں اموال غنیمت میں سے ایک چادر کے چرانے والے کو بھی دوزخی کہا گیا ہے۔
چنانچہ وہ حدیث آگے مذکور ہے۔
قال المھلب ھذا الحدیث وعید لمن أنفذہ اللہ علیه من أهل المعاصي ویحتمل أن یکون الحمل المذکور لا بد منه عقوبة له بذالك لیفتضح علی رؤوس الأشهاد و أما بعد ذلك فإلی اللہ الأمر في تعذیبه أو العفو عنه وقال غیره هذا الحدیث یفسر قوله عز و جل﴿یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ﴾ أي یأت به حاملا له علی رقبته (فتح)
یعنی اس حدیث میں وعید ہے اہل معاصی کے لئے۔
احتمال ہے کہ یہ اٹھانا بطور عذاب اس کے لئے ضروری ہو‘ تاکہ وہ سب کے سامنے ذلیل ہو‘ بعد میں اللہ کو اختیار ہے چاہے اسے عذاب کرے‘ چاہے معاف کرے۔
یہ حدیث آیت کریمہ ﴿یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ﴾ (آل عمران: 161)
کی تفسیر بھی ہے کہ وہ عاصی اس خیانت کو قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3073 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3073 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3073. حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے خطاب کرتے ہوئے خیانت کا ذکر فرمایا: ’’قیامت کے دن میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر بکری ممیارہی ہو یا اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو۔ اوروہ چلا رہا ہو۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ!میری مدد فرمائیے۔ میں اسے جواب دوں کہ تیرے لیے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ میں نے تجھے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ اس کی گردن پر اونٹ بلبلا رہا ہو اور وہ کہے: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! میری مدد فرمائیں، اور میں جواب دوں کہ میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میں نے تو اللہ کا حکم تمھیں پہنچا دیا تھا۔ یا اس کی گردن پر سونے چاندی کے ٹکڑے لادے ہوئے ہوں اور وہ مجھ سے کہے۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ! میری مدد فرمائیے اور میں اسے کہہ دوں کہ میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ میں نے تو اللہ کا پیغام پہنچادیا تھا۔ یا اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3073]
حدیث حاشیہ:
1۔
فتح کے بعد میدان جنگ میں جو بھی مال وغیرہ ملے اسے مال غنیمت کہا جاتا ہے۔
اسے باضابطہ طور پر امیر لشکر کے پاس جمع کرانا چاہیے۔
اس کے بعد شرعی تقسیم کے تحت وہ مجاہدین کو دیا جائے گا۔
اس مال غنیمت میں خیانت کا مرتکب اللہ کے ہاں بہت بڑا مجرم ہوگا۔
حدیث میں مذکورہ اشیاء بطورتمثیل بیان ہوئی ہیں۔
مال غنیمت سے تو ایک چادر چرانے والے کو بھی جہنمی کہا گیاہے۔
2۔
اس حدیث سے آیت کریمہ کی بھی تفسیر ہوتی ہے۔
کہ دنیا میں جو بھی خیانت کی ہوگی قامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کرلائے گا اور رسول اللہ ﷺ ڈانٹتے ہوئے اسے فرمائیں گے: ’’میں تیرے متعلق کسی قسم کااختیار نہیں رکھتا۔
میں نے تجھے اللہ کا پیغام پہنچا دیاتھا۔
اب تیرےلیے کوئی عذرقابل قبول نہیں۔
‘‘
1۔
فتح کے بعد میدان جنگ میں جو بھی مال وغیرہ ملے اسے مال غنیمت کہا جاتا ہے۔
اسے باضابطہ طور پر امیر لشکر کے پاس جمع کرانا چاہیے۔
اس کے بعد شرعی تقسیم کے تحت وہ مجاہدین کو دیا جائے گا۔
اس مال غنیمت میں خیانت کا مرتکب اللہ کے ہاں بہت بڑا مجرم ہوگا۔
حدیث میں مذکورہ اشیاء بطورتمثیل بیان ہوئی ہیں۔
مال غنیمت سے تو ایک چادر چرانے والے کو بھی جہنمی کہا گیاہے۔
2۔
اس حدیث سے آیت کریمہ کی بھی تفسیر ہوتی ہے۔
کہ دنیا میں جو بھی خیانت کی ہوگی قامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کرلائے گا اور رسول اللہ ﷺ ڈانٹتے ہوئے اسے فرمائیں گے: ’’میں تیرے متعلق کسی قسم کااختیار نہیں رکھتا۔
میں نے تجھے اللہ کا پیغام پہنچا دیاتھا۔
اب تیرےلیے کوئی عذرقابل قبول نہیں۔
‘‘
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3073 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1831 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطاب کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپﷺ نے غنیمت میں خیانت کی سنگینی کا ذکر کیا اور اس معاملہ کو انتہائی سنگین قرار دیا، پھر فرمایا: ’’میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو، جو بلبلا رہا ہو، وہ کہے، اے اللہ کے رسولﷺ! میری فریاد رسی کیجئے، تو میں جواب دوں گا، میرے اختیار میں تیرے لیے کچھ نہیں، میں تمہیں پیغام... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4734]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
لَا أُلْفِيَنَّ: میں کسی کوہرگزنہ پاؤں۔
یا لَا أُلْقِيَنَّ میری ہرگز ملاقات نہ ہو۔
(2)
رُغَاءٌ: اونٹ کی آواز، جس کو بلبلانا کہتے ہیں۔
(3)
حَمْحَمَةٌ: چارہ دیکھ کر گھوڑے کی آواز، جس کو ہنہنانے سے تعبیر کرتے ہیں۔
(4)
ثُغَاءٌ: بکری کی آواز، جسےمنمنانے یا ممیانے کا نام دیا جاتا ہے۔
(5)
رِقَاعٌ: رقعة کی جمع ہے، کپڑے کے ٹکڑے، یہاں مراد کپڑے ہیں، جو تخفق ہل رہےہوں گے۔
(6)
صَامِتٌ: سونا چاندی، ناطق حیوانات کےمقابلہ میں آتا ہے۔
(7)
صِيَاحٌ: چیخنا، چلانا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام امور کی نشان دہی فرما دی ہے، جس کی انسان نے پابندی کرنی ہے، اس لیے اگر وہ کسی شرعی حکم کی مخالفت کرے گا، تو اسے اس کی سزا ملے گی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں ایسے کسی انسان کی سفارش نہیں فرمائیں گے، جس نے مالی خیانت کی ہو گی یا کسی کا ناجائز خون بہایا ہو گا اور مال غنیمت میں کسی قسم کی خیانت انتہائی سنگین ہے اور اس کے گناہ کبیرہ ہونے پر ائمہ کا اتفاق ہے، حتیٰ کہ بعض ائمہ کے نزدیک اس کا تمام مال جلا دیا جائے گا، لیکن جمہور ائمہ، امام مالک، امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا مال جلایا نہیں جائے گا، امام اپنی صوابدید کے مطابق اس کو سزا دے گا، اس لیے اگر کسی نے کسی کا مال کسی ناجائز طریقہ سے لیا ہے، تو اسے توبہ کرکے پشیمانی اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے، اس کے مالک یا اس کے ورثاء کو واپس کردینا چاہیے، یہ ممکن نہ ہو، تو اس کی طرف سے صدقہ کر دینا چاہیے، اگر حکومت کا مال کھایا ہے، تو کسی قومی فنڈ میں سے جمع کرا دے۔
(1)
لَا أُلْفِيَنَّ: میں کسی کوہرگزنہ پاؤں۔
یا لَا أُلْقِيَنَّ میری ہرگز ملاقات نہ ہو۔
(2)
رُغَاءٌ: اونٹ کی آواز، جس کو بلبلانا کہتے ہیں۔
(3)
حَمْحَمَةٌ: چارہ دیکھ کر گھوڑے کی آواز، جس کو ہنہنانے سے تعبیر کرتے ہیں۔
(4)
ثُغَاءٌ: بکری کی آواز، جسےمنمنانے یا ممیانے کا نام دیا جاتا ہے۔
(5)
رِقَاعٌ: رقعة کی جمع ہے، کپڑے کے ٹکڑے، یہاں مراد کپڑے ہیں، جو تخفق ہل رہےہوں گے۔
(6)
صَامِتٌ: سونا چاندی، ناطق حیوانات کےمقابلہ میں آتا ہے۔
(7)
صِيَاحٌ: چیخنا، چلانا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام امور کی نشان دہی فرما دی ہے، جس کی انسان نے پابندی کرنی ہے، اس لیے اگر وہ کسی شرعی حکم کی مخالفت کرے گا، تو اسے اس کی سزا ملے گی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں ایسے کسی انسان کی سفارش نہیں فرمائیں گے، جس نے مالی خیانت کی ہو گی یا کسی کا ناجائز خون بہایا ہو گا اور مال غنیمت میں کسی قسم کی خیانت انتہائی سنگین ہے اور اس کے گناہ کبیرہ ہونے پر ائمہ کا اتفاق ہے، حتیٰ کہ بعض ائمہ کے نزدیک اس کا تمام مال جلا دیا جائے گا، لیکن جمہور ائمہ، امام مالک، امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا مال جلایا نہیں جائے گا، امام اپنی صوابدید کے مطابق اس کو سزا دے گا، اس لیے اگر کسی نے کسی کا مال کسی ناجائز طریقہ سے لیا ہے، تو اسے توبہ کرکے پشیمانی اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے، اس کے مالک یا اس کے ورثاء کو واپس کردینا چاہیے، یہ ممکن نہ ہو، تو اس کی طرف سے صدقہ کر دینا چاہیے، اگر حکومت کا مال کھایا ہے، تو کسی قومی فنڈ میں سے جمع کرا دے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1831 سے ماخوذ ہے۔