حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرِينِّيُّ ، مِنْ وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلا بِعَشَائِرِهِمْ وَقَبَائِلِهِمْ ، وَلا يُزَادُ فِيهِمْ وَلا يَنْقُصُ مِنْهُمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ ، قَالَ : اعْمَلُوا فَكُلُّ امْرِئٍ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، إِلا بَكَّارٌترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمایا تو اس میں رہنے والے قبیلے اور خاندان بھی پیدا کیے، نہ ان میں اضافہ ہوگا اور نہ ان میں کمی کی جائے گی۔“ ایک آدمی کہنے لگا: یا رسول اللہ! پھر عمل کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عمل کرو، بے شک ہر آدمی کے لیے اس راستے کی طرف آسانی کی گئی ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے۔“