معجم صغير للطبراني
كتاب الزكوٰة— زکوٰۃ کا بیان
باب: تین اشخاص جو سوال (چندہ یا مدد مانگنا) کر سکتے ہیں ان کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا طَيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ قَحْطَبَةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ الطَّائِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَسَأَلَهُمَا فَقَالا : إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَصْلُحُ إِلا لِثَلاثَةٍ : لِحَاجَةٍ مُجْحِفَةٍ ، أَوْ لِحَمَالَةٍ مُثَقَّلَةٍ ، أَوْ دَيْنٍ فَادِحٍ ، فَأَعْطَيَاهُ ، ثُمَّ أَتَى ابْنُ عُمَرَ ، فَأَعْطَاهُ ، وَلَمْ يَسْأَلْهُ ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : " أَتَيْتُ ابْنَيْ عَمِّكَ فَسَأَلانِي وَلَمْ تَسْأَلْنِي ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " ابْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَا يَغَرَّانِ الْعِلْمَ غَرًّا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُجَاهِدٍ ، إِلا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ الْكُوفِيُّمجاہد کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سوال کرنا صرف تین آدمیوں کے لیے درست ہے: سخت ضرورت مند یا بھاری ضمانت میں یا جان توڑ قرضے میں، پھر انہوں نے اس کو وہ چیز دے دی۔ پھر وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اس کو دے دیا، اور کچھ نہ پوچھا۔ اس آدمی نے کہا: میں تیرے چچا کے بیٹوں کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا اور تو نے مجھ سے نہیں پوچھا۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ہیں، اور وہ دونوں علم کو لقمہ بناتے ہیں اور سکھاتے ہیں۔