حدیث نمبر: 400
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سَهْلَوَيْهِ الآدَمَيُّ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ ، فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ ، إِلا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو کھجور مل گئی وہ اس سے افطار کرے، جو صرف پانی پائے تو پانی بھی پاک ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 694 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کس چیز سے روزہ کھولنا مستحب ہے؟`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جسے کھجور میسر ہو، تو چاہیئے کہ وہ اسی سے روزہ کھولے، اور جسے کھجور میسر نہ ہو تو چاہیئے کہ وہ پانی سے کھولے کیونکہ پانی پاکیزہ چیز ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 694]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جسے کھجور میسر ہو، تو چاہیئے کہ وہ اسی سے روزہ کھولے، اور جسے کھجور میسر نہ ہو تو چاہیئے کہ وہ پانی سے کھولے کیونکہ پانی پاکیزہ چیز ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 694]
اردو حاشہ:
1؎:
کیونکہ سعید بن عامر ’’عن شعبة عن عبدالعزيز بن صهيب عن أنس‘‘ کے طریق سے اس کی روایت میں منفرد ہیں، شعبہ کے دوسرے تلامذہ نے ان کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے اسے ’’عن شعبة عن عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن سلمان بن عامر‘‘ کے طریق سے روایت کی ہے، اور عاصم الاحول کے تلامذہ مثلاً سفیان ثوری اور ابن عیینہ وغیرہم نے بھی اسے اسی طرح سے روایت کیا ہے۔
2؎:
یعنی ابن عون نے اپنی روایت میں ’’عن الرباب‘‘ کہنے کے بجائے ’’عن ام الروائح بنت صلیع‘‘ کہا ہے، اور رباب ام الروائح کے علاوہ کوئی اورعورت نہیں ہیں بلکہ دونوں ایک ہی ہیں۔
نوٹ:
(سند میں سعید بن عامر حافظہ کے ضعیف ہیں اور ان سے اس کی سند میں بھی وہم ہوا ہے، دیکھئے الارواء رقم: 922)
1؎:
کیونکہ سعید بن عامر ’’عن شعبة عن عبدالعزيز بن صهيب عن أنس‘‘ کے طریق سے اس کی روایت میں منفرد ہیں، شعبہ کے دوسرے تلامذہ نے ان کی مخالفت کی ہے، ان لوگوں نے اسے ’’عن شعبة عن عاصم الأحول عن حفصة بنت سيرين عن سلمان بن عامر‘‘ کے طریق سے روایت کی ہے، اور عاصم الاحول کے تلامذہ مثلاً سفیان ثوری اور ابن عیینہ وغیرہم نے بھی اسے اسی طرح سے روایت کیا ہے۔
2؎:
یعنی ابن عون نے اپنی روایت میں ’’عن الرباب‘‘ کہنے کے بجائے ’’عن ام الروائح بنت صلیع‘‘ کہا ہے، اور رباب ام الروائح کے علاوہ کوئی اورعورت نہیں ہیں بلکہ دونوں ایک ہی ہیں۔
نوٹ:
(سند میں سعید بن عامر حافظہ کے ضعیف ہیں اور ان سے اس کی سند میں بھی وہم ہوا ہے، دیکھئے الارواء رقم: 922)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 694 سے ماخوذ ہے۔