حدیث نمبر: 393
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدِّيمَاسِيُّ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ امْرَأَةً ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمٌ ، قَالَ : صَوْمِي عَنْ أُمِّكِ " . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، إِلا مُؤَمَّلٌ ، وَالْمَشْهُورُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، فَإِنْ كَانَ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حِفْظَهُ فَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میری ماں مر گئی اور اس پر کچھ روزے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کی طرف سے روزے رکھ۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصيام / حدیث: 393
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1149، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8109، 8110، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6280، 6281، 6282، 6283، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1656، 2877، والترمذي فى «جامعه» برقم: 667، 929، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1759، 2394، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 248، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 7729، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23422، والطبراني فى «الصغير» برقم: 777»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1759

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1759 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´میت کے نذر والے روزے کے حکم کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور اس پر روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1759]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
فو ت شدہ شخص کے ذمے اگر روزے ہوں تو اس کے وارث اس کی طرف سے روزے رکھ سکتے ہیں
(2)
روزے خواہ رمضان کے ہوں یا نذر کے یا کفار کے سب کا ایک ہی حکم ہے کیو نکہ یہ سب اللہ کا قرض ہے ارشاد نبوی ہے جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں اس کا ولی وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔ (صحیح البخاري، الصوم، باب من مات وعلیہ صوم، حدیث: 1953)
 اگر ولی یعنی وارث اس کی طرف سے روزے نہ رکھیں تو پھر گزشتہ حدیث 1757 میں جو بیان ہو ا ہے اس پر عمل کیا جائے گا کہ ہر دن کے روزے کی جگہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا جائے گو وہ روایت مرفوعاً ضعیف ہے لیکن موقوفا صحیح ہے ایک اور روایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے صحیح ابن خزیمہ میں بھی مروی ہے کہ ہر دن نصف صاع گند م دی جا ئے (صحیح ابن خزیمة، حدیث: 2057)
۔

(3)
روزے پر دوسری عبادات مثلا نما ز کو قیاس نہیں کر سکتے کیو نکہ عبادات کے لئے نص دلیل کا ہونا لازمی امر ہے عبادت کے جن معاملا ت میں نیابت حدیث سے ثا بت ہے و ہی کریں گے باقی کے بارے میں توقف کریں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1759 سے ماخوذ ہے۔