حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الرَّجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْمُقَوِّمُ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامٌ يَأْكُلُ مِنْهُ ، فَقَالَ : "ادْنُوا ، فَكُلُوا مِنْ هَذَا الطَّعَامِ ، فَقُلْنَا : إِنَّا صِيَامٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : هَلْ صُمْتُمْ أَمْسِ ؟ ، قُلْنَا : لا ، قَالَ : فَهَلْ تُرِيدُونَ أَنْ تَصُومُوا غَدًا ؟ ، فَقُلْنَا : لا ، قَالَ : فَادْنُوا ، فَكُلُوا مِنْ هَذَا الطَّعَامِ ، فَإِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لا يُصَامُ وَحْدَهُ "، لا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمعہ کے دن گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ۔“ ہم نے کہا: ہمارا روزہ ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کل بھی روزہ رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں! فرمایا: ”کیا تم کل کا روزہ بھی رکھنا چاہتے ہو؟“ ہم نے کہا: نہیں! فرمایا: ”پھر قریب ہو کر یہ کھانا کھاؤ کیونکہ صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا درست نہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1724]
فوائد و مسائل:
(1)
طواف کعبہ کے دوران میں بات چیت کرنا جائز ہے۔
تاہم فضول بات چیت سے اجتناب کرتے ہوئے دعا وذکر میں مشغول رہنا افضل ہے۔
(2)
اللہ کی مخلوق کی قسم کھانا حرام ہے۔
لیکن اللہ کا ذکر اس کی کسی صفت کے ساتھ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس لئے کعبہ کی قسم کھانے کی بجائے کعبہ کے رب کی قسم کھانی چاہیے۔
(3)
کسی بات کی تاکید کے لئے قسم کھانا جائز ہے۔
لیکن بلا ضرورت کثرت سے قسمیں کھانا اچھا نہیں اور جھوٹی قسم تو بہت بڑا گناہ ہے۔
اس حدیث میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان ہے۔ طواف کے دوران اہم دینی باتیں کی جاسکتی ہیں، جس بات کا علم نہ ہو اس کا علماء سے سوال کر لینا چاہیے۔ مسئلہ بتاتے وقت قسم کھانا جائز ہے۔