حدیث نمبر: 388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الرَّجَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ الْمُقَوِّمُ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ طَعَامٌ يَأْكُلُ مِنْهُ ، فَقَالَ : "ادْنُوا ، فَكُلُوا مِنْ هَذَا الطَّعَامِ ، فَقُلْنَا : إِنَّا صِيَامٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : هَلْ صُمْتُمْ أَمْسِ ؟ ، قُلْنَا : لا ، قَالَ : فَهَلْ تُرِيدُونَ أَنْ تَصُومُوا غَدًا ؟ ، فَقُلْنَا : لا ، قَالَ : فَادْنُوا ، فَكُلُوا مِنْ هَذَا الطَّعَامِ ، فَإِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لا يُصَامُ وَحْدَهُ "، لا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمعہ کے دن گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ۔“ ہم نے کہا: ہمارا روزہ ہے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کل بھی روزہ رکھا ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں! فرمایا: ”کیا تم کل کا روزہ بھی رکھنا چاہتے ہو؟“ ہم نے کہا: نہیں! فرمایا: ”پھر قریب ہو کر یہ کھانا کھاؤ کیونکہ صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا درست نہیں۔“
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصيام / حدیث: 388
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1984 | صحيح مسلم: 1143 | سنن ابن ماجه: 1724 | مسند الحميدي: 1260
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1724 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کے دن کا روزہ۔`
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1724]
محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1724]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
طواف کعبہ کے دوران میں بات چیت کرنا جائز ہے۔
تاہم فضول بات چیت سے اجتناب کرتے ہوئے دعا وذکر میں مشغول رہنا افضل ہے۔
(2)
اللہ کی مخلوق کی قسم کھانا حرام ہے۔
لیکن اللہ کا ذکر اس کی کسی صفت کے ساتھ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس لئے کعبہ کی قسم کھانے کی بجائے کعبہ کے رب کی قسم کھانی چاہیے۔
(3)
کسی بات کی تاکید کے لئے قسم کھانا جائز ہے۔
لیکن بلا ضرورت کثرت سے قسمیں کھانا اچھا نہیں اور جھوٹی قسم تو بہت بڑا گناہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
طواف کعبہ کے دوران میں بات چیت کرنا جائز ہے۔
تاہم فضول بات چیت سے اجتناب کرتے ہوئے دعا وذکر میں مشغول رہنا افضل ہے۔
(2)
اللہ کی مخلوق کی قسم کھانا حرام ہے۔
لیکن اللہ کا ذکر اس کی کسی صفت کے ساتھ ہو تو کوئی حرج نہیں۔
اس لئے کعبہ کی قسم کھانے کی بجائے کعبہ کے رب کی قسم کھانی چاہیے۔
(3)
کسی بات کی تاکید کے لئے قسم کھانا جائز ہے۔
لیکن بلا ضرورت کثرت سے قسمیں کھانا اچھا نہیں اور جھوٹی قسم تو بہت بڑا گناہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1724 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1260 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1260-محمد بن عباد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: وہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کررہے تھے کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اس گھر کے پروردگار کی قسم! جی ہاں۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1260]
فائدہ:
اس حدیث میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان ہے۔ طواف کے دوران اہم دینی باتیں کی جاسکتی ہیں، جس بات کا علم نہ ہو اس کا علماء سے سوال کر لینا چاہیے۔ مسئلہ بتاتے وقت قسم کھانا جائز ہے۔
اس حدیث میں جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان ہے۔ طواف کے دوران اہم دینی باتیں کی جاسکتی ہیں، جس بات کا علم نہ ہو اس کا علماء سے سوال کر لینا چاہیے۔ مسئلہ بتاتے وقت قسم کھانا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1258 سے ماخوذ ہے۔