حدیث نمبر: 369
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ السَّكَنِ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : "مَا صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا مَعَهُ ثَلاثِينَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَمَّادٍ ، إِلا عَبْدُ الأَعْلَى ، تَفَرَّدَ بِهِ صَالِحٌترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2322 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
فوائد ومسائل:
(1) انتیس روزے مجموعی لحاظ سے اجر میں تیس ہی کی طرح ہوتے ہیں، کیونکہ اس عمل کی بنیاد اخلاص اور اطاعت پر ہے۔
(2) (لما صمنا) میں ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔
(عون المعبود)
(1) انتیس روزے مجموعی لحاظ سے اجر میں تیس ہی کی طرح ہوتے ہیں، کیونکہ اس عمل کی بنیاد اخلاص اور اطاعت پر ہے۔
(2) (لما صمنا) میں ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔
(عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2322 سے ماخوذ ہے۔