حدیث نمبر: 367
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الأَرَّجَانِيُّ ، بِهَا ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاثِينَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ وَرْقَاءَ ، إِلا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ۔ اگر تم پر بادل چھا جائیں تو تیس کی گنتی پوری کرو۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الصيام / حدیث: 367
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1909، 1914، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1081، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1908، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3442، 3443، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1553، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2114 ، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2324، 2335، والترمذي فى «جامعه» برقم: 684، 685، 687، 697، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1727، 1731، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1646، 1650، 1654، 1660، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6375، والدارقطني فى «سننه» برقم: 2160، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7320، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 207، 553، 1222، 2291، 2333، 3309، 8242، والطبراني فى «الصغير» برقم: 161»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1138 | سنن ابي داود: 2324 | سنن ابن ماجه: 1719 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 263

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2324 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جب لوگوں سے چاند دیکھنے میں غلطی ہو جائے تو کیا کیا جائے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی، اس میں ہے: تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم افطار کرتے ہو ۱؎ اور عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو، پورا کا پورا میدان عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا میدان منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے نیز مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں، اور سارا مزدلفہ وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2324]
فوائد ومسائل:
اجتہادی امور میں خطا معاف ہے۔
عید یا حج کے موقع پر چاند نظر نہ آیا ہو اور لوگ مہینے کے تیس دن پورے کر لیں اور بعد میں پتہ چلے کہ چاند تو انتیس کا تھا تو ان پر روزے اور وقوف عرفات و قربانی کا کوئی عیب نہیں۔
ایسے ہی اگر کئی فساق اکٹھے ہو کر انتیس ہی کو چاند ہونے کا مشہود کر دیں اور مسلمان ان کے بھرے میں آ کر افطار کر لیں یا وقوف عرفات و قربانی ہو جائے تو اس میں عامة المسلمین پر کوئی عیب نہیں۔
ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بعض بے دینوں نے توبہ کرنے کے بعد اظہار کیا کہ ہم چند لوگ مل کر چاند ہونے کا دعویٰ کر دیتے تھے، شہادتیں اور قسمیں بھی کھا لیتے تھے اور عید کروا دیتے تھے۔
العیاذباللہ۔
ایسی صورت میں ازالہ نا ممکن ہو تو خطا معاف ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2324 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 263 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن روزہ رکھنا حرام ہے`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صيام يومين: يوم الفطر ويوم الاضحى . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں عیدالفطر اور عیدالاضحی کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 263]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 1138، من حديث ما لك به]
تفقه:
➊عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن جان بوجھ کر (اگر یقینی طور پر چاند دیکھا گیا ہو تو) روزہ رکھنا حرام ہے۔
➋ اگر کوئی خاص عید کے دن روزہ رکھنے کی نذر مان لے تو یہ نذر باطل ہے۔
➌ بعض علماء اس حدیث سے استنباط کرتے ہیں کہ ہمیشہ ہر روز روزہ رکھنا جائز ہے بشرطیکہ ایام ممنوعہ میں روزہ نہ رکھا جائے۔ دیکھئے: [الموطأ روايتہ یحیی 300/1]
➍ بہتر یہی ہے کہ ہر روز، روزہ رکھنے سے اجتناب کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ داود علیہ السلام والا روزہ رکھا جائے۔ یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کیا جائے، یہی افضل ترین ہے۔
➎ جن روایات میں ہمیشہ روزہ رکھنے سے ممانعت آئی ہے وہ ایام ممنوعہ کو چھوڑ کر باقی دنوں میں کراہت تنزیہی پر محمول ہیں۔
➏ نیز دیکھئے: [الموطأ ح73، البخاري 1990، ومسلم 1137]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 98 سے ماخوذ ہے۔