حدیث نمبر: 364
حَدَّثَنَا وَصِيفٌ الأَنْطَاكِيُّ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلامٍ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُهْبَانَ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَقُولُوا : الثَّبَاتَ الثَّبَاتَ ، وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، إِلا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والوں کو ﴿لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ﴾ کی تلقین کرو، اور کہو: اللہ ثابت قدم رکھے، اللہ ثابت قدم رکھے، صرف اللہ کی توفیق سے ہی بھلائی کی طاقت مل سکتی ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الجنائز و ذكر الموت / حدیث: 364
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع ،وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 562، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1444، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6695، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6184، والبزار فى «مسنده» برقم: 9763، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10962، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1119
قال الھیثمی: فيه عمر بن محمد بن صهبان وهو ضعيف ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (2 / 323)
قال الشيخ الألباني: موضوع»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 675 | صحيح مسلم: 27 | صحيح مسلم: 917 | سنن ابن ماجه: 1444

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 675 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اذان کا جواب دینے کے ثواب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 675]
675۔ اردو حاشیہ: اس حدیث کے معنی بظاہر وہی ہے جو مؤلف رحمہ اللہ نے مراد لیے ہیں کہ جو شخص اذان کا جواب دے وہ جنت میں جائے گا۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 675 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 917 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنے مرنے والوں کو لاالٰه الا اللہ کہنے کی تلقین کرو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2125]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: موتٰی سے مراد وہ لوگ ہیں جو مر رہے ہوں یعنی ایسے لوگ جن کی موت کے آثار نمایاں ہو چکے ہوں اب چونکہ وہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کو سدھار رہے ہیں اور آخرت میں کام آنے والی چیز توحید ہی ہے اس لیے مرنے والے کے سامنے لاالٰه الا اللہ پڑھنا چاہیے تاکہ وہ بھی اس کلمہ کو پڑھے اور اس کا خاتمہ اس کلمہ پر ہو اور وہ جنت کا حقدار ٹھہرے اور اگر وہ دوسروں کے پڑھنے سے اس طرف متوجہ نہ ہواور کلمہ اخلاص نہ پڑھے تو پھر اس کو لاالٰه الا اللہ پڑھنے کے لیے کہا جائے گا اور جب اس نے لاالٰه الا اللہ پڑھ لیا ہے تو پھر بار بار اس کو پڑھنے کے لیے نہیں کہا جائے کہیں خدانخواستہ وہ بیماری کی شدت اور گھبراہٹ کی بنا پرجھنجھلا کر یہی نہ کہہ دے میں نہیں پڑھتا۔
اعاذنا اللہ منہ۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2125 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1444 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جان نکلنے کے وقت میت کو «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اپنے مردوں کو «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1444]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
اس حدیث میں مرنے والے سے مراد قریب الوفات شخص ہے۔

(2)
تلقین سے عام طور پر علماء نے یہ مراد لیا ہے۔
کہ قریب الوفات شخص کے پاس (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)
پڑھا جائے۔
تاکہ وہ بھی سن کر پڑھ لے۔
علامہ محمد فواد عبد الباقی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم کے حاشہ میں یہی فرمایا ہے۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، الجنائز، باب تلقین الموتیٰ لا الٰہ الا اللہ)
نواب وحید الزمان خان نے سنن ابن ماجہ کے حاشہ میں اس مقام پر فرمایا مستحب ہے کہ میت یعنی جومر رہا ہو۔
اس کو نرمی سے یہ کلمہ یاد دلائیں۔
اور زیادہ اصرار نہ کریں۔
ایسا نہ ہوکہ انکار کر بیٹھے۔
البتہ علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے اس سے مختلف ہے۔
وہ فرماتے ہیں کہ تلقین سے مراد کلمہ توحید پڑھ کر صرف سنانا ہی نہیں بلکہ اس سے کہا جائے وہ بھی پڑھے۔
اس کی دلیل میں انھوں نے یہ حدیث پیش کی ہے۔
جس کے الفاظ یہ ہیں۔
رسول اللہ ﷺ ایک انصاری کی عیادت کوتشریف لے گئے تو فرمایا ماموں جان! (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)
کہیے۔
اس نے کہا میں ماموں ہوں یا چچا؟ آپ نے فرمایا بلکہ ماموں اس نے کہا تو (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)
کہنا میرے لئے بہتر ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا ہاں (مسند احمد: 152/3)

(3)
اس حدیث سے دفن کے بعد تلقین مراد لینا درست نہیں کیونکہ نبی کریمﷺ نے ایسے نہیں کیا اور نہ کسی صحابی سے صحیح سند سے یہ عمل مروی ہے۔
لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
البتہ دفن کے بعد میت کے حق میں استقامت کی دعا کرنامسنون ہے۔ (سنن أبی داؤد، الجنائز، باب الإستغفار عند القبر للمیت فی وقت الإنصراف، حدیث: 3231)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1444 سے ماخوذ ہے۔