حدیث نمبر: 361
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى الزُّبَيْدِيُّ ، بِمَدِينَةِ زَبِيدَ بِالْيَمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ ، قَالَ : ذَكَرَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَتْ فَاطِمَةُ "لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ أَدْنَاهُ ، يَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ ، يَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، إِلا أَبُو قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا الدَّيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے میرے ابا جان! آپ اپنے رب کے کتنے ہی قریب ہیں۔ اے میرے ابا جان! آپ کا جنت الفردوس میں ٹھکانا ہے۔ اے میرے ابا جان! ہم جبریل کو آپ کی وفات کی اطلاع دیتے ہیں۔

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الجنائز و ذكر الموت / حدیث: 361
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4462، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6613، 6621، 6622، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1412، 4421، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1844، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1983، والدارمي فى «مسنده» برقم: 88، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1629، 1630، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6829، ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12629، والترمذی فى «الشمائل» برقم: 397، والطبراني فى«الكبير» برقم: 1028، 1029، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 8422، 9313، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1082»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4462 | سنن ابن ماجه: 1629

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4462 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4462. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ سخت بیمار ہوئے اور آپ پر غشی طاری ہوئی تو سیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬ے کہا: ہائے میرے والد کو سخت تکلیف ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے فاطمہ! آج کے بعد تمہارے والد کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی۔‘‘ پھر جب آپ ﷺ وفات پا گئے تو سیدہ فاطمہ نے فرمایا: اے میرے ابا جان! جس نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کر لیا۔ اے میرے ابوجان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے۔ اے والد گرامی! ہم حضرت جبرئیل ؑ کو آپ کے انتقال کی خبر دیتے ہیں۔ پھر جب آپ کو دفن کر دیا گیا تو سیدہ فاطمہ‬ ؓ ن‬ے حضرت انس ؓ سے فرمایا: اے انس! تمہارے دل رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالنے کے لیے کیونکر آمادہ ہوئے تھے؟[صحيح بخاري، حديث نمبر:4462]
حدیث حاشیہ:

حضرت فاطمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں کہا تھا: ’’ہائے میرے والد کو سخت تکلیف ہے۔
‘‘ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
اس سے ثابت ہوا کہ موت کے قریب میت کے لیے اظہار غم و حزن جائز ہے اور وفات کے بعد بھی میت کے ایسے وصاف ذکر کرنے جائز ہیں جو موصوف میں پائے جاتے ہوں جیسا کہ حضرت فاطمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ کے اوصاف بیان کیے جن سے آپ متصف تھے۔

اگرچہ حضرت جبرئیل ؑ کو رسول اللہ ﷺ کی وفات کا بخوبی علم تھا مگر اس کلام سے حسرت وافسوس کا اظہار کرنا مقصود ہے۔
شریعت میں وہ نوحہ ممنوع ہے جس میں رونے والا میت کے ایسے اوصاف ذکر کرے جو اس میں نہیں پائے جاتے یا وہ مبالغہ آمیزی سے کام لے جیسا کہ دور جاہلیت میں کیا جاتا تھا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4462 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1629 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف ۱؎، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہو گی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہو گی ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1629]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب کسی کا آخری وقت ہو تو اس کے پاس موجود افراد کو رونا منع نہیں بشرط یہ کہ وہ طبعی ہو۔
زمانہ جاہلیت کی طرح مصنوعی نہ ہو۔

(2)
مومن کےلئے یہ چیز تسلی کا باعث ہے کہ موت کی شدت کے بعد ہمیشہ کی راحت ہے۔

(3)
جب بیمار کی حالت دیکھ کر احباب واقارب پریشانی محسوس کریں۔
تو مریض کو چاہیے کہ انھیں تسلی دے۔
اسی طرح اگر مریض پریشان ہو تو عیادت کرنے والوں کو چاہیے کہ اسے تسلی دیں۔

(4)
موت ایک ایسا مرحلہ ہے۔
جس سے ہر شخص کو لازماً گزرنا ہے۔
لیکن احباب سے یہ جدائی عارضی ہے۔
کیونکہ اللہ کے پاس ملاقات ہوجائے گی۔

(5)
قیامت سے پہلے فوت ہونے والوں کی ایک دوسرے سے ملاقات ہوسکتی ہے۔
لیکن اصل ملاپ جس کے بعد جدائی کا خطرہ نہیں وہ تو قیامت ہی کو حاصل ہوگا۔

(6)
نبی کی وفات اور تدفین کی واضح صراحتوں کے بعد بھی آپ کی بابت یہ دعویٰ کرنا کہ آپ قبر میں بالکل اسی طرح زندہ ہیں جیسے دنیا میں تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ حقیقی زندگی آپ ﷺ کو حاصل ہے۔
بڑی ہی عجیب بات ہے۔
ہاں آپ کو برزخی زندگی یقیناً حاصل ہے لیکن وہ کیسی ہے؟ اس کی نوعیت وکیفیت کو ہم جانتے ہیں۔
نہ جان ہی سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1629 سے ماخوذ ہے۔