معجم صغير للطبراني
كتاب الجنائز و ذكر الموت— نماز جنازہ اور موت کے ذکر کا بیان
باب: انسان کو مصیبت پہنچنے پر کیا کرے
حدیث نمبر: 350
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَدِّبُ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَسَّابٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أُصِيبَ مِنْكُمْ بِمُصِيبَةٍ مِنْ بَعْدِي فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنْ مُصِيبَتِهِ الَّتِي تُصِيبُهُ ، فَإِنَّهُ لَنْ يُصَابَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي بَعْدِي بِمِثْلِ مُصِيبَتِهِ بِي "، لا يُرْوَى عَنْ عَائِشَةَ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: ”لوگو! تم میں سے جس کو میرے بعد کوئی مصیبت پہنچے تو میری مصیبت سے اپنی مصیبت کو تسلی دے، کیونکہ جتنی مصیبت مجھ پر آئی ہے اتنی میری امت میں سے کسی کو نہیں پہنچی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1599 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا، اور فرمایا: ” اے لوگو! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے ب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1599]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا، اور فرمایا: ” اے لوگو! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے ب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1599]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ ﷺ کو اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں بھی امت کا خیال تھا۔
چنانچہ جب انھیں نیکی پر قائم دیکھا تو بہت خوشی ہوئی۔
(2)
جب مصیبت پر صبر مشکل محسوس ہورہا ہو تو سوچے کہ اگر میرا عزیز یا بزرگ فوت ہوگیا ہے۔
تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔
یہاں جو بھی آیا اسے جانا ہے۔
جب محمد رسول اللہ ﷺجیسی عظیم شخصیت کی بھی وفات ہوگئی۔
تو پھر اور کون ہے۔
جو ہمیشہ زندہ رہے۔
(3)
حدیث کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب کوئی مصیبت آئے تو مسلمان رسول اللہ ﷺ پر آنے والی مصیبتوں اور مشکلات کو یاد کرے اور نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ کو پیش نظر رکھ کر صبرکرے۔
جس طرح نبی کریمﷺ نے ہر مشکل اور مصیبت کے موقع پر صبرکیا۔
اور مصائب پر جزع فزع کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
اسی طرح ہمیں بھی کرنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ ﷺ کو اپنی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں بھی امت کا خیال تھا۔
چنانچہ جب انھیں نیکی پر قائم دیکھا تو بہت خوشی ہوئی۔
(2)
جب مصیبت پر صبر مشکل محسوس ہورہا ہو تو سوچے کہ اگر میرا عزیز یا بزرگ فوت ہوگیا ہے۔
تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔
یہاں جو بھی آیا اسے جانا ہے۔
جب محمد رسول اللہ ﷺجیسی عظیم شخصیت کی بھی وفات ہوگئی۔
تو پھر اور کون ہے۔
جو ہمیشہ زندہ رہے۔
(3)
حدیث کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب کوئی مصیبت آئے تو مسلمان رسول اللہ ﷺ پر آنے والی مصیبتوں اور مشکلات کو یاد کرے اور نبی کریمﷺ کے اسوہ حسنہ کو پیش نظر رکھ کر صبرکرے۔
جس طرح نبی کریمﷺ نے ہر مشکل اور مصیبت کے موقع پر صبرکیا۔
اور مصائب پر جزع فزع کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
اسی طرح ہمیں بھی کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1599 سے ماخوذ ہے۔