حدیث نمبر: 35
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ الْقَلْزُمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحَاسِنُهُمْ أَخْلاقًا ، الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا ، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ ، وَلا خَيْرَ فِيمَنْ لا يَأْلَفُ وَلا يُؤْلَفُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُيَيْنَةَ أَخِي سُفْيَانَ ، إِلا يَعْقُوبُترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام لوگوں سے کامل ایمان والے وہ ہیں جو اخلاق میں اچھے ہوں، اور نرم پہلوؤں والے ہوں، جو دوستی رکھتے ہیں اور دوست رکھے جاتے ہیں، اور جو شخص نہ کسی کو دوست رکھے اور نہ اس کو کوئی دوست رکھے اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6029 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6029. حضرت مسروق سے روایت ہے انہوں نے کہا جب حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ حضرت امیر معاویہ ؓ کے ہمراہ کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ بد گوئی کرنے والے اور بے ہودہ باتیں کرنے والے نہ تھے نیز انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اخلاق کے اعتبار سے اچھا ہو۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6029]
حدیث حاشیہ:
(1)
فحش وہ بری بات ہے جو حد سےگزری ہوئی ہو، اس طرح کی باتیں کرنے والے کو فاحش کہتے ہیں اور متفحش بیہودگی اور یا وہ گوئی کرنا ہے۔
لوگوں کو خوش کرنے کے لیے گندی اور بے حیائی پر مبنی باتیں کرنے والے کو متفحش کہتے ہیں۔
(2)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی جیتی جاگتی تصویر تھے، اس لیے آپ نہ تو بدزبانی کرتے اور نہ آپ کو یا وہگوئی کرنے کی عادت تھی بلکہ قرآن کریم پر عمل کرنا آپ کی جبلت تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: کیا تو قرآن نہیں پڑھتا؟ آپ کا خلق تو قرآن کریم تھا۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1739(746)
قرآن کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وکردار کی ان الفاظ میں گواہی دی ہے: ’’یقیناً آپ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہیں۔
‘‘ (القلم68: 4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی پسند نہیں کرتا۔
‘‘ (مسند أحمد: 159/2)
(1)
فحش وہ بری بات ہے جو حد سےگزری ہوئی ہو، اس طرح کی باتیں کرنے والے کو فاحش کہتے ہیں اور متفحش بیہودگی اور یا وہ گوئی کرنا ہے۔
لوگوں کو خوش کرنے کے لیے گندی اور بے حیائی پر مبنی باتیں کرنے والے کو متفحش کہتے ہیں۔
(2)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی جیتی جاگتی تصویر تھے، اس لیے آپ نہ تو بدزبانی کرتے اور نہ آپ کو یا وہگوئی کرنے کی عادت تھی بلکہ قرآن کریم پر عمل کرنا آپ کی جبلت تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: کیا تو قرآن نہیں پڑھتا؟ آپ کا خلق تو قرآن کریم تھا۔
(صحیح مسلم، صلاة المسافرین، حدیث: 1739(746)
قرآن کریم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وکردار کی ان الفاظ میں گواہی دی ہے: ’’یقیناً آپ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہیں۔
‘‘ (القلم68: 4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی پسند نہیں کرتا۔
‘‘ (مسند أحمد: 159/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6029 سے ماخوذ ہے۔