معجم صغير للطبراني
كتاب الجنائز و ذكر الموت— نماز جنازہ اور موت کے ذکر کا بیان
باب: فوت شدگان کی نیکیوں کا ذکر اور برائیوں سے باز رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَفْصِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ الأَهْوَازِيُّ بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَنَسٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ ، وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ ، إِلا عِمْرَانُ ، وَلا عَنْ عِمْرَانَ ، إِلا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ . تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو كُرَيْبٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے فوت شدگان کی نیکیاں ذکر کیا کرو، اور ان کی برائیوں سے باز رہا کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4900 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4900]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4900]
فوائد ومسائل:
مرنے والا اپنے کیے ہوئے اعمال کی جزا وسزا پانے کے لیے اگلے جہا ں جا چکا ہے، اب اس کا برا تذکرہ اس کے وارثوں کے لیئے اذیت کے علاوہ تمھارے آپس کے درمیان بغض کا باعث بنے گا۔
ہاں شرعی ضرورت کے تحت کسی کا کفرشرک بدعت واضح کرنا ضروری ہو تو بیان کیا جائے تا کہ لوگ متنبہ رہیں، جیسے بعض لوگ فاسد عقیدے کی اشاعت کا باعث بنے ہوں یا روایتِ حدیث میں ضعیف رہے ہوں تو ان کا تذکرہ دین کا حصہ ہے نہ کہ کوئی ذاتی غرض۔
مرنے والا اپنے کیے ہوئے اعمال کی جزا وسزا پانے کے لیے اگلے جہا ں جا چکا ہے، اب اس کا برا تذکرہ اس کے وارثوں کے لیئے اذیت کے علاوہ تمھارے آپس کے درمیان بغض کا باعث بنے گا۔
ہاں شرعی ضرورت کے تحت کسی کا کفرشرک بدعت واضح کرنا ضروری ہو تو بیان کیا جائے تا کہ لوگ متنبہ رہیں، جیسے بعض لوگ فاسد عقیدے کی اشاعت کا باعث بنے ہوں یا روایتِ حدیث میں ضعیف رہے ہوں تو ان کا تذکرہ دین کا حصہ ہے نہ کہ کوئی ذاتی غرض۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4900 سے ماخوذ ہے۔